خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 265
$2004 265 خطبات مسرور کنارے پر ایسی جگہ تھو کیں جہاں کسی کی کبھی نظر نہ پڑے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ (المدثر : ۲۔۵) اپنے کپڑے صاف رکھو، بدن کو، اور گھر کو اورکوچہ کو اور ہر ایک جگہ کو جہاں تمہاری نشست ہو پلیدی اور میل کچیل اور کثافت سے بچاؤ یعنی نفسل کرتے رہو اور گھر وں کو صاف رکھنے کی عادت پکڑو۔اسلامی اصول کی فلاسفی - صفحه ۳۲ بحواله تفسیر جلد نمبر ٤ صفحه ٤٩٦) جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بدن کو بھی صاف رکھو، کپڑوں کو بھی صاف رکھو، اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جتنا حلیہ خراب ہو اتنی بزرگی زیادہ ہوتی ہے حالانکہ اسلامی تعلیم اس کے بالکل برعکس ہے۔ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر انعام کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اثر اس بندے پر دیکھئے“۔(مسند احمدبن حنبل) پھر ایک روایت ہے، جو ابو الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میرے جسم کے کپڑے معمولی اور گھٹیا تھے۔آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔آپ نے پوچھا کس طرح کا مال ہے۔میں نے کہا ہر طرح کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے دے رکھا ہے۔اونٹ بھی ہیں، گائے بھی ہیں۔بکریاں بھی ہیں گھوڑے بھی ہیں اور غلام بھی ہیں۔تو آپ نے فرمایا ”جب اللہ نے مال دے رکھا ہے تو اس کے فضل اور احسان کا اثر و نشان تمہارے جسم پر ظاہر ہونا چاہئے“۔(سنن ابی داؤد كتاب اللباس باب فى الحلقان و غسل الثوب ) بعض لوگ تو طبعاً ایسے ہوتے ہیں کہ توجہ نہیں دیتے کہ صحیح طرح کپڑے پہن سکیں اور بعض کنجوسی میں اپنا حلیہ بگاڑ کر رکھتے ہیں۔تو بہر حال جو بھی صورت ہے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر فضل اور احسان کیا ہے اس کا اظہار