خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 228
$2004 228 خطبات مسرور ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آ جاتی ہے۔اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع واقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری کے کنکر پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔(ملفوظات جلد اول صفحه ٣٤٧ ـ الحكم ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء) تو یہ معیار ہیں ہماری عبادت کے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے توقع رکھتے ہیں۔کہ ہمارے دل صاف ہو کر اس طرح خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں ، اس طرح اس کی عبادت بجا لائیں کہ ان میں خدا نظر آنے لگے۔یعنی ہماری کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو خدا کے حکم کے خلاف ہو بلکہ ہماری سوچیں بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنے والی ہوں۔جب ہماری یہ کیفیت ہو جائے گی تو تب ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے کہلا سکتے ہیں۔ورنہ تو دنیا کی ملونیاں اور اس کے گند ہمارے دلوں میں ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں: پس کس قدر ضرورت ہے کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو، میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے۔اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔فرماتے ہیں کہ : ” میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو یا بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔اسلام تو انسان کو چست اور ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے۔اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو ، حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کا تر ڈد نہ کرے تو اس کا مواخذہ ہو گا۔پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جائے تو وہ غلطی کرتا ہے۔نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم