خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 229
229 $2004 خطبات مسرور کرتے ہو دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔اور اس کے ارادے سے باہر نکل کر اپنی اغراض و جذبات کو مقدم نہ کرو۔(ملفوظات جلد اول صفحه ۱۱۸ - الحکم ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ء) تو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ عبادت کرنے سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ دنیا کو چھوڑ دے اور اپنے معاشرے اور رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لے۔فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ محنت سے اپنے دنیاوی کام بھی کرنا تم پہ فرض ہے۔لیکن یہ کام تمہیں عبادت سے روکنے والے نہ ہوں۔اگر تم کاروباری آدمی ہو تو محنت سے کاروبار کرو۔اگر تم زمیندار ہو تو اپنی زمین پر دوسروں سے زیادہ محنت کرو۔اگر تم کہیں ملازم ہو تو محنت سے کام کرو اور دنیا کو یہ پتہ چلے کہ احمدی کی شان ہے کہ وہ اپنے دنیاوی کام بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرتا ہے۔اور وہ اپنی عبادات بھی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بجالاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعو علیہ السلام نے ہمیں عبادت کے طریق کس طرح سکھائے ہیں۔ایک حدیث کی وضاحت میں آپ فرماتے ہیں کہ صلوۃ ہی دعا ہے اور نماز ہی عبادت کا مغز ہے۔اور نماز کے بارے میں جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے کہ باجماعت ادا کرنی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاَنْ اَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتَّقُوْهُ۔وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (انعام (۷۳) اور یہ کہہ دے کہ نماز قائم کرو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو وہی ہے جس کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نماز قائم کرو۔اور نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی کرو۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں اور پانچ وقت نماز کے لئے مسجدوں میں آئیں۔اور نہ صرف خود آئیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی مساجد میں نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔اور ہماری مساجد اتنی زیادہ نمازیوں سے بھرنی شروع ہو جائیں کہ چھوٹی پڑ جائیں۔خدا کرے کہ ہم اس کے عابد بندے بن سکیں۔اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرنے والے ہوں۔