خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 226

خطبات مسرور $2004 226 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: يايُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (البقره: ٢٢) اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی عبادت کرنے والا ہو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اس بارے میں حکم فرمایا ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! اپنے پیدا کرنے والے رب کی عبادت کرو۔یہی خدا ہے جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جو تم سے پہلے تھے ان کو بھی پیدا کیا اور تمہیں بھی یہی حکم ہے اور تمہارے سے پہلے لوگوں کو بھی یہی حکم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔اور ایک خدا کی عبادت کر کے ہی تقویٰ پر قائم رہا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا خوف اور اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں قائم رہ سکتی ہے۔لیکن پہلوں نے اس حکم کو بھلا دیا وہ ایک خدا کی بجائے کئی خداؤں کی عبادت کرنے لگ گئے۔کسی نے تین خداؤں کی عبادت کرنی شروع کر دی ، کسی نے بتوں کی پوجا کرنی شروع کر دی کسی نے دنیاوی جاہ و حشمت کو اپنا خدا بنا لیا۔اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کا خوف، اس کی خشیت ان کے دلوں میں قائم نہ رہی۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو! سن لو کہ اگر تقویٰ اختیار کرنا ہے تو تقویٰ اس کا نام ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو۔اور عبادت کے صحیح طریقے تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی خوبصورت شریعت کی پیروی سے ہی حاصل ہوں گے۔لیکن یا درکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ ایک زمانے کے بعد مسلمان بھی اس کو