خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 199
199 $2004 خطبات مسرور لے۔حضرت عمر تو فرمایا کرتے تھے کہ لَا خِلَافَةَ إِلَّا عَن مَشْوَرَةٍ“ کہ خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے لینے کے بغیر درست نہیں۔اور یہ بھی کہ خلافت کے نظام کا ایک اہم ستون مشاورت ہی ہے۔(کنز العمال كتاب الخلافة جلد ۳ صفحه (۱۳۹ تو جماعتی ترقی کے لئے اور کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے ایک انتہائی اہم چیز ہے، جیسا کہ حضرت عمر کا قول ہے کیونکہ قوم کی مشترکہ کوششیں ہوں تو پھر کامیابی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔پھر ایک اور روایت ہے جس سے مشورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت علی بن ابو طالب سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا امر در پیش ہوا جس کے بارے میں وحی قرآن نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہم نے آپ سے کچھ سنا تو ہم کیا کریں گے۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے معاملے کو حل کرنے کے لئے مومنوں میں سے علماء کو یا عبادت گزارلوگوں کو جمع کرنا اور اس معاملے کے بارے میں ان سے مشورہ کرنا اور ایسے معاملے کے بارے میں فرد واحد کی رائے پر فیصلہ نہ کرنا۔(کنز العمال باب فی فضل حقوق القرآن جلد ۲ صفحه (٣٤٠ اس حدیث کی طرف بھی جماعت کو توجہ کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جماعت میں ہمیشہ دینی علوم کے بھی اور دوسرے علوم کے بھی ماہرین پیدا فرما تا رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عباد الرحمن پیدا فرمائے اور ہمیں عباد الرحمن بنائے تا کہ خلیفہ وقت کو مشورہ دینے میں بھی کبھی دقت پیش نہ آئے اور ہمیشہ مشورے سن کر یہ احساس ہو کہ ہاں یہ نیک نیتی سے دیا گیا مشورہ ہے۔یہ نیک نیتی پرمبنی مشورہ ہے۔اور اس میں اپنی ذات کی کسی قسم کی کوئی ملونی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احباب جماعت سے مشورہ طلب کرنے کے بارے میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بعض امور جب پیش آتے تو آپ سال میں دو تین چار بار بھی اپنے خدام کو