خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 187
$2004 187 مسرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو دور کرنے کے لئے اور انصاف قائم کرنے کے لئے بڑی باریکی سے خیال رکھتے ہوئے ہمیں تعلیم دی ہے۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں ان کے ابا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا میں نے اس بچے کو ایک غلام تحفہ دیا ہے۔حضور نے فرمایا کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا تحفہ دیا ہے۔میرے ابا نے عرض کیا نہیں حضور ، آپ نے فرمایا یہ تحفہ واپس لے لو۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد سے انصاف اور مساوات کا سلوک کرو۔اس پر میرے والد نے وہ تحفہ واپس لے لیا۔ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضور نے فرمایا مجھے اس ہبہ کا گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم کا گواہ نہیں بن سکتا۔(بخارى كتاب الهبة باب الهبة للولد۔۔۔۔۔۔پھر نظام جماعت ہے۔جماعت میں بھی بعض معاملات میں عہد یداران کو فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔پھر قضاء کا نظام ہے۔ان کے پاس فیصلے کے لئے معاملات آتے ہیں۔ان کو بھی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنا چاہئے کہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے دعا کر کے، گہرائی میں جا کر، ہر چیز کوغور سے دیکھ کر پھر فیصلہ کریں تا کہ کبھی کسی کو شکوہ نہ ہو کہ عدل و انصاف کے فیصلے نہیں ہوتے۔بعض دفعہ قضا میں صلح و صفائی کی کوشش کے لئے معاملہ لمبا ہو جاتا ہے جس سے کسی فریق کو یہ شکوہ پیدا ہو جاتا ہے کہ قضا فیصلے نہیں کر رہی۔ان فریقین کو بھی صبر اور حو صلے سے کام لینا چاہئے۔بہر حال عہد یداران اور قضا کو انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلے کرنا چاہئیں۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن تک کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر عضو کے لئے صدقے دینا چاہئے۔اور جو شخص لوگوں میں عدل سے فیصلے کرتا ہے تو یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔(بخاری کتاب الصلح باب فضل الاصلاح بين الناس والعدل بينهم