خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 186
186 $2004 خطبات مسرور ہو، اور تمہاری بیویوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان سے ان کے کھانے کے معاملے میں اور ان کے لباس کے معاملے میں احسان کا معاملہ کرو“۔(ترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء في حق المرأة على زوجها) اس روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ گھر کے ماحول کو انصاف اور عدل کے مطابق چلانا ہے تو میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہو گا ان کے حقوق کی حفاظت کرنی ہوگی ،عورتوں کو کس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے گھروں میں آنے والیاں عورتوں کی سہیلیاں ہی ہوتی ہیں ایسی نہ ہوں جن کو خاوند گھروں میں آنا پسند نہیں کرتے اور اپنی دوستیاں بھی ان سے ناجائز یا جائز نہ بنائیں ، اگر خاوند پسند نہیں کرتا کہ گھروں میں یہ لوگ آئیں تو نہ آئیں۔ہوسکتا ہے کہ بعض گھروں کے معاملے میں خاوند کو علم ہو اس کی وجہ سے وہ پسند نہ کرتا ہو کہ ایسے لوگ گھروں میں آئیں۔یہ باتیں ایسی ہی ہیں کہ خاوند کی خوشی اور رضامندی کی خاطر عورتوں کو برا ماننا بھی نہیں چاہئے اور جو خاوند کہتے ہیں مان لینا چاہئے۔اس حدیث میں دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ خاوندوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اہل وعیال کا جو حق ہے وہ ادا کریں، گھر کے اخراجات اور ان کے لباس وغیرہ کا خیال رکھیں۔اس کی وضاحت تو میں پہلے ہی کر چکا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ( مردوں کے لئے ) فرماتے ہیں: دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالے کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا امیدیں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازہ انسان عَاشِرُوْاهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔البدر جلد ۳ صفحه ٢٦ / جولائی ١٩٠٤ء بحواله تفسیر حضرت۔موعود جلد ۲ صفحه ٢١٦) پھر اولا د سے بھی بعض لوگ بے انصافی کر جاتے ہیں۔بعض کو بے جالاڈ سے بگاڑ دیتے ہیں اور بعض پر ضرورت سے زیادہ بختی کر کے بگاڑ دیتے ہیں تو پھر ایسے بچے بڑے ہو کر بعض دفعہ اپنے باپوں سے بھی نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔