خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 161
$2004 161 خطبات مسرور تو نئے آنے والوں کی تربیت بھی صحیح طرح ہو سکے گی۔اس لئے بہت گہرائی میں جا کر ان باتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوْا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ الله عَلَيْكُمْ كَفِيلا۔إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ﴾ (سورة النحل آیت :۹۲) اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد نہ توڑو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپرکفیل بنا چکے ہواللہ یقیناً جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ جو تم عہد کرتے ہو اس کو بھی پورا کرو اور جو تمہارے آپس میں معاہدات ہوتے ہیں ان کو بھی مت توڑو، یعنی جب تم خدا تعالیٰ کو ضامن کر کے کسی انسان سے معاہدہ کرو تو اس کو ضرور پورا کرو کیونکہ تم خدا تعالیٰ کو ضامن مقرر کر چکے ہو۔پس خدا کا نام لے کر کئے گئے معاہدے کو اگر تم توڑو گئے تو گویا خدا تعالیٰ کو بدنام کرنے والے ہو گے اور خدا تعالیٰ کو غیرت آئے گی اور اسے تمہیں سزا دینی پڑے گی فرمایا کہ اس عہد کو پورا کرو جس میں تم نے اللہ تعالیٰ کو ضامن مقرر کیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے عہد پورے نہ کرو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ خدائی عہد میں سچ بولنا شامل ہے۔بلکہ ان الفاظ سے اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انہی عہدوں کی پابندی انسان پر فرض ہے کہ جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہو اور جن عہدوں کا ضامن اللہ تعالیٰ نہ ہو ان کا پورا کرنا غیر ضروری ہی نہیں بلکہ گناہ بھی ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ عہد جو انصاف اور سچائی پر مبنی ہے اس کا اللہ تعالیٰ ضامن ہوتا ہے، چاہے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے۔جو بھی عہد انصاف اور سچائی پر بنی ہوگا اللہ تعالی کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ہو گا اس عہد کا بہر حال ضامن اللہ تعالیٰ ہے، چاہے وہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے فرماتے ہیں کیونکہ