خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 160
160 $2004 خطبات مسرور بد نیتی پیدا ہو جائے تو پھر اس کے ساتھ ہی بدعہدی بھی شروع ہو جاتی ہے۔معاہدے بھی ٹوٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر جھگڑے شروع ہوتے ہیں۔ان میں خاندانوں کے خاندان اس طرح اجڑ رہے ہوتے ہیں۔عام روز مرہ کے کاموں میں بھی وعدہ خلافیاں ہو رہی ہوتی ہیں اور ہوتے ہوتے بعض دفعہ سخت لڑائی پر یہ چیزیں منتج ہو جاتی ہیں۔جھگڑوں کے بعد اگر صلح کی کوئی صورت پیدا ہو تو معاہدے ہوتے ہیں اور جب صلح کرانے والے ادارے دو فریقین کی صلح کرواتے ہیں تو وہاں صلح ہو جاتی ہے، وعدہ کرتے ہیں کہ سب ٹھیک رہے گا، بعض دفعہ لکھت پڑھت بھی ہو جاتی ہے لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ صلح کر کے دفتر یا عدالت سے باہر نکلے تو پھر سر پھٹول شروع ہوگئی ،کوئی وعدوں اور عہدوں کا پاس نہیں ہوتا۔پھر نکاح کا عہد ہے فریقین کا معاملہ ہے اس کو پورا نہیں کر رہے ہوتے۔یہ معاہدہ تو ایک پبلک جگہ میں اللہ کو گواہ بنا کر تقویٰ کی شرائط پر قائم رہنے کی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔لیکن بعض ایسی فطرت کے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اس کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔بیویوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے ان پر ظلم اور زیادتی کر رہے ہوتے ہیں، گھر کے خرچ میں باوجود کشائش ہونے کے تنگی دے رہے ہوتے ہیں، بیویوں کے حق مہر ادا نہیں کر رہے ہوتے ، حالانکہ نکاح کے وقت بڑے فخر سے کھڑے ہو کر سب کے سامنے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہاں ہمیں اس حق مہر پر نکاح بالکل منظور ہے۔اب پتہ نہیں ایسے لوگ دنیا دکھاوے کی خاطر حق مہر منظور کرتے ہیں کہ یا دل میں یہ نیت پہلے ہی ہوتی ہے کہ جو بھی حق مہر رکھوایا جارہاہے لکھوالو کونسا دینا ہے، تو ایسے لوگوں کو یہ حدیث سامنے رکھنی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس نیت سے حق مہر رکھواتے ہیں ایسے لوگ زانی ہوتے ہیں۔اللہ رحم کرے اگر ایک فیصد سے کم بھی ہم میں سے ایسے لوگ ہوں ، ہزار میں سے بھی ایک ہو تو تب بھی ہمیں فکر کرنی چاہئے۔کیونکہ پرانے احمدیوں کی تربیت کے معیار اعلیٰ ہوں گے