خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 152
$2004 152 خطبات مسرور وجہ سے ادھر تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا واقعہ ہے تو لوگوں نے یہ بتایا تو فرمایا کہ یہ محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اسے دے دو اور نصیحت نہ کرو یعنی بلا وجہ اس کو کچھ کہو نہ۔اور خدا تعالیٰ کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو۔(سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جلد اول صفحه ۱۰۶،۱۰۵) پھر خان صاحب اکبر خان صاحب نے بتایا کہ مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر حضرت اقدس کے مکان تک جانے کے لئے پہلے بھی اسی طرح ایک راستہ ہوتا تھا۔ایک دفعہ لالٹین اٹھا کر حضرت اقدس کو راستہ دکھانے لگے۔اتفاق سے لالٹین ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور لکڑی پر تیل پڑا اور اوپر نیچے سے آگ لگ گئی۔کہتے ہیں بہت پریشان ہوا۔بعض اور لوگ بھی بولنے لگے لیکن حضور نے فرمایا خیر ایسے واقعات ہو ہی جاتے ہیں۔مکان بچ گیا اور ان کو کچھ نہ کہا۔سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جلد اول صفحه ١٠٤) خان اکبر صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم وطن چھوڑ کر قادیان آگئے تو ہم کو حضرت اقدس نے اپنے مکان میں ٹھہرایا۔حضور کا قاعدہ یہ تھا کہ رات کو عموماً موم بتی جلا لیا کرتے تھے۔اور بہت سی موم بتیاں اکٹھی روشن کر دیا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ جن دنوں میں میں آیا میری لڑکی بہت چھوٹی تھی ایک دفعہ حضرت اقدس کے کمرے میں بتی جلا کر رکھ آئی، اتفاق ایسا ہوا کہ وہ بہتی گر پڑی۔اور حضور کی کتابوں کے بہت سارے مسودات اور چند اور چیزیں جل گئیں اور نقصان ہو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تو سارا نقصان ہو گیا ہے۔سب کو بہت سخت پریشانی اور گھبراہٹ شروع ہو گئی یہ کہتے ہیں کہ میری بیوی اور لڑکی بھی بہت پریشان تھی کہ حضوڑا اپنی کتابوں کے مسودات بڑی احتیاط سے رکھا کرتے تھے وہ سارے جل گئے ہیں لیکن جب حضور کو اس بات کا علم ہوا تو کچھ نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہئے کہ کوئی اس سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔( سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جلد اول صفحه ۱۰۳) پھر دیکھیں آپ کے مخالف اور معاند مولوی محمد حسین بٹالوی ہماری جماعت میں ان کو