خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 124
$2004 124 خطبات مسرور فضلوں کو سمیٹنے والا بن جاتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ ، بیماری، بے چینی ، تکلیف اور غم پہنچتا ہے، یہاں تک کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی لگتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کی بعض خطائیں معاف کر دیتا ہے۔(بخاری کتاب المرضى باب ما جاء في كفارة المرض) تو ان لوگوں کے لئے جو ذرا ذرا سی بات پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے لئے انذار بھی ہے کہ اگر تم بے صبری کا مظاہرہ کرو گے ، جزع فزع کرو گے تو اپنی خطائیں معاف کروانے کے موقع کو ضائع کر رہے ہو گے۔دوسری طرف صبر کرنے والوں کے لئے کتنی بڑی خوشخبری ہے کہ ہلکی سی بھی تکلیف پر صبر کرنے والے کے صبر کو اللہ تعالٰی ضائع نہیں کرتا، بغیر اجر دیئے نہیں جانے دیتا۔اور خطائیں اور غلطیاں معاف فرماتا ہے۔بعض لوگ بعض دفعہ کسی سے کوئی معمولی سی بات سن کر جھگڑے شروع کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ اس طرح بھی شکایات آ جاتی ہیں کہ اجلاسوں میں بیٹھے ہوئے تو تو میں میں اور پھر لڑائی شروع ہو جاتی ہے اور اس اجلاس کے ماحول کے تقدس کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔حوصلہ اور صبر ذرا بھی نہیں ہوتا جبکہ مومن کے لئے بڑا سخت حکم ہے کہ صبر دکھاؤ، حوصلہ دکھاؤ، پھر ہمسائے ہیں، ہمسائے نے اگر کوئی بات کہہ دی تو اس سے ذرا سی بات پر لڑائی شروع ہو گئی۔یہاں سے اینٹ اٹھا کے وہاں کیوں رکھ دی، وہاں کوئی پتھر کیوں رکھ دیا گیٹ کیوں کھلا رہ گیا۔کارکیوں میرے گھر کے گیٹ کے سامنے آ گئی۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو لڑائی جھگڑے پیدا کر رہی ہوتی ہیں اور دونوں ہمسائے پھر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے لڑنے کے مختلف حیلے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور انتہائی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں ہوتی ہیں۔بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مکان کی دیوار بنائی ہے۔تمہاری دیوار میری زمین میں چند انچ سے بھی زائد آ گئی ہے۔خالی کرو، یا تمہارے درخت کے پتے میرے گھر میں گرتے ہیں اس درخت کو وہاں سے کاٹو تو