خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 105

$2004 105 خطبات مسرور کھل کر بات کی تھی۔اور بڑی وضاحت سے بتایا تھا اور مختلف حوالوں سے مردوں کو بھی اس طرف توجہ دلائی تھی اور سمجھایا تھا۔تو آج کے لئے میں نے خیانت کا عنوان چنا تو سورۃ المومن کی یہ آیت نظر سے گزری جس کا تھوڑا سا حصہ میں نے بتایا تھا۔تو مجھے خیال آیا کہ آنکھ کی خیانت کے حوالہ سے بھی دوبارہ مختصر بتا دوں کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو غض بصر کا حکم ہے اور چونکہ مردوں کو زیادہ دیکھنے کی عادت ہوتی ہے اس لئے ان کو بہر حال غض بصر سے زیادہ کام لینا چاہئے۔اور اس میں واضح طور پر منع ہے کہ آزادی سے ایک دوسرے کو دیکھیں۔کیونکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے منع ہے کہ جو نامحرم رشتے ہیں ان کو دیکھا جائے۔اور اگر وہ اس طرح کرتے ہیں تو یہ بات بھی آنکھ کی خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔اب میں اس آیت کی طرف آتا ہوں جو میں نے ابھی تلاوت کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تمہیں جو تعلیم دی ہے ، جو احکامات دئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے جو حقوق معین کئے ہیں ، ان کی ادائیگی میں اگر خیانت کرو گے تو پھر تم آپس میں بھی اپنی امانتوں کو ادا کرنے کے معاملہ میں خیانت سے کام لو گے۔لوگوں کی امانتوں کولوٹانے اور ان کے حقوق ادا کرنے کے بارہ میں بھی خیانت کرنے والے بن جاؤ گے، حقوق ادا نہیں کرو گے۔اس لئے ہر دو قسم کے حقوق یعنی خدا تعالیٰ کے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے تمہیں صاف ستھرا اور کھر ا ہونا ہوگا۔پھر اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی تم پر فرض ہے۔جب تم نے یہ عہد کر لیا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں، ایمان لاتا ہوں ، تمام حکموں پر جو اللہ تعالیٰ نے ادا کرنے کا حکم دیا ہے ان کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ تو کرنے ہیں اور یاد رکھیں کہ اگر یہ احکامات سچے دل سے بجا نہیں لائیں گے تو معاشرے کے جو حقوق و فرائض ہیں وہ بھی صحیح طرح ادا نہیں ہوں گے۔اور پھر معاشرے میں ایک دوسرے کا اعتماد بھی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ جب تم خیانت کرو گے تو دوسرے بھی خیانت کریں گے اور معاشرے کا امن، چین اور سکون کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔