خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 927 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 927

$2004 927 خطبات مسرور ہورہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دیتا ہے۔تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔تم اپنے آپ کو خاندان کا بڑا سمجھ کر یا بڑے رشتے کا حوالہ دے کر روک نہ ڈالو کہ یہ رشتہ ٹھیک نہیں ہے، نہیں ہونا چاہئے یا مناسب نہیں ہے۔بیوہ کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔تم کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے آزاد ہو۔اللہ تمہارے دل کا بھی حال جانتا ہے۔اگر تم کسی وجہ سے نیک نیتی سے یہ روک ڈالنے یا سمجھانے کی کوشش کر رہے ہو کہ یہ رشتہ نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ جو تمہارے دل میں ہے ظاہر کر دو اس کو بتادو اور اس کے بعد پیچھے ہٹ جاؤ اور فیصلے کا اختیار اس بیوہ کے پاس رہنے دو۔اللہ تعالیٰ تمہارے دل کا حال جانتا ہے اس کو تمہاری نیت کا پتہ ہے تمہارے سے بہر حال باز پرس نہیں ہوگی۔اگر نیک نیت ہے تو نیک نیتی کا ثواب مل جائے گا۔اس بارے میں فرماتا ہے ﴿وَالَّذِيْنَ يَتَوَفُونَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - ﴾ (البقرة: 235) یعنی تم میں سے وہ لوگ جو وفات دیئے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔پس جب وہ اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائیں تو پھر وہ عورتیں اپنے متعلق معروف کے مطابق جو بھی کریں اس بارے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔چونکہ بعض قو میں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلی ہوئی ہے۔اس واسطے بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے۔نکاح تو اسی کا ہوگا جو نکاح کے لائق ہے اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں۔بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں۔مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ