خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 888 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 888

$2004 888 خطبات مسرور نشان نہیں بلکہ ان گزشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ بھی نہیں لگتا۔اور یقینا نہیں سمجھ سکتے کہ خدا بھی انسان سے ہمکلام ہوتا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ سب قصے حقیقت کے رنگ میں آگئے۔اب نہ ہم قال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ اب یہ سنی سنائی باتیں نہیں ہیں بلکہ تجربے سے یہ باتیں ہمارے سامنے ظاہر ہوگئیں۔اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ مکالمہ الہیہ کیا چیز ہوتا ہے۔“ یہ صرف قصے نہیں رہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی سے ہی پتہ لگ گیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ہمکلام ہوتا ہے کس طرح بات کرتا ہے کس طرح سنتا ہے اور کس طرح سناتا ہے۔اور خدا کے نشان کس طرح ظاہر ہوتے ہیں اور کس طرح دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور یہ سب کچھ ہم نے آنحضرت ﷺ کی پیروی سے پایا اور جو کچھ قصوں کے طور پر غیر قو میں بیان کرتی ہیں وہ سب کچھ ہم نے دیکھ لیا۔پس ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا کہا ہے محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں۔کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی۔ہم کس زبان سے خدا کا شکر کریں جس نے ایسے نبی کی پیروی ہمیں نصیب کی جو سعیدوں کی ارواح کے لئے آفتاب ہے جیسے اجسام کے لئے سورج“۔یعنی جو سعید فطرت لوگ ہیں ان کی روح کو تازگی دینے کے لئے ، ان کو نور پہنچانے کے لئے ایک سورج ہے۔جیسے ہمارے جسم کی صحت کے لئے ایک سورج ہے۔وہ اندھیرے کے وقت میں ظاہر ہوا اور دنیا کو اپنی روشنی سے روشن کر دیا۔وہ نہ تھکا، نہ ماندہ ہوا جب تک کہ عرب کے تمام حصہ کو شرک سے پاک نہ کر دیا۔وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے۔اور اس کی کچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو۔کون صدق دل سے ہمارے پاس آیا جس نے اس نور کا