خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 889 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 889

889 $2004 خطبات مسرور مشاہدہ نہ کیا اور کس نے صحت نیت سے اس دروازہ کو کھٹکھٹایا جو اس کے لئے کھولا نہ گیا۔لیکن افسوس کہ اکثر انسانوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ نوران کے اندر داخل ہو“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 301-302-303) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو بتانے کے بعد یہ فرمایا کہ کون ہے جو بچے دل سے ہمارے پاس آیا کہ اسے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کا پتہ نہ لگا۔یعنی اس غرض سے آیا کہ اس نور کو دیکھے اور اس کو نہ دکھایا ہو۔کیونکہ اب اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کا نور دیکھنے کے لئے مسیح موعود کے پاس ہی آنا ہو گا۔یہ بھی آنحضرت ﷺ کا ہی ارشاد ہے کہ چودہ سو سال کے بعد جب مسیح و مہدی آئے گا وہ میرے نور سے ہی منور ہوگا، میری روشنی ہی پھیلائے گا۔پس آنحضرت ﷺ کی پیروی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ کی اس بات کی بھی پیروی کی جائے کہ چودھویں صدی میں جس مسیح ومہدی کا ظہور ہونا ہے اس کو بھی مانا جائے۔یہ نہیں ہے کہ جیسے مسلمانوں کا آج کل یہی شیوہ ہے کہ جو مرضی کی باتیں ہوں وہ مان لیں اور کچھ نہ مانی۔تو فرمایا کہ یہ تو گھٹیا اور گندی زندگی کو پسند کرنے والی باتیں ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خود اپنے بارے میں کیا ارشادفرمایا ہے کہ مجھ سے کسی طرح محبت کرو۔ایک روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتا جب تک میں اسے اپنے والد اور اولاد سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔(بخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلى الله عليه وسلم من الايمان) تو یہ معیار بتایا ہے دنیا وی رشتوں کی مثال دے کر کہ صرف پیروی کا دعوی ہی نہیں کرنا بلکہ یہ جو دنیاوی رشتے ہیں، والدین اور بچے ، ان سب سے زیادہ میں تمہارا پیارا بنوں۔مجھے تم سب سے زیادہ پیار کرنے والے بنو۔صحابہ نے جن میں بچے بھی تھے بوڑھے بھی تھے جوان بھی تھے انہوں نے اسی طرح قربانیاں دی ہیں اور اسی طرح پیار کیا ہے۔بچوں نے اپنے والدین کو چھوڑ نا گوارا کر لیا مگر آپ کا در نہ چھوڑا۔پس آج ہمیں بھی وہی مثالیں قائم کرنی ہیں، انشاء اللہ۔جس طرح آپ نے