خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 880
$2004 880 خطبات مسرور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کیونکہ ایک جگہ فرمایا کہ نماز ہی عبادت کا مغز ہے۔نمازوں میں بھی جیسا کہ میں نے کہا جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا سب سے اچھا موقع ہے وہ سجدے کی حالت میں ہے۔جب انسان نہایت عاجزی سے اپنا سر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر رکھتا ہے آگے جھکتا ہے، اس سے التجا کرتا ہے، اس سے مانگتا ہے۔یہی حالت ہے جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بہت قریب انسان ہوتا ہے۔اس لئے اس وقت بہت زیادہ مانگنا چاہئے۔اور اس وقت مانگو تا کہ اللہ تعالی کے فضل کو بھی جوش میں لاؤ ، اور رحم کو بھی جوش میں لاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” غرض کہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے اور مومن کا گزارا تو ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کا دھیان ہر وقت اس کی طرف لگا نہ رہے۔اگر کوئی ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور ایک دینی نظر سے ان کو وقعت نہیں دیتا تو وہ اپنے دنیوی معاملات پر ہی نظر ڈال کر دیکھے کہ خدا کی تائید اور فضل کے سوا کوئی کام اس کا چل سکتا ہے؟۔اور کوئی منفعت دنیا کی وہ حاصل کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔دین ہو یا دنیا ہر ایک امر میں اسے خدا کی ذات کی بڑی ضرورت ہے۔اور ہر وقت اس کی طرف احتیاج لگی ہوئی ہے۔جو اس کا منکر ہے سخت غلطی پر ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھویا نہ۔وہ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ﴾ (سورة الفرقان آیت :78) کہ اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔انسان جس قدر اپنے وجود کو مفید اور کارآمد ثابت کرے گا اسی قدر اس کے انعامات کو حاصل کرے گا۔دیکھو کوئی بیل کسی زمیندار کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہومگر جب وہ اس کے کسی کام بھی نہ آوے گا نہ گاڑی میں جتے گا، نہ زراعت کرے گا، نہ کنویں میں لگے گا تو آخر سوائے ذبح کے اور کسی کام نہ آوے گا۔یہاں بھی اب جانور جو ہیں جو کسی کام کے نہیں ہوتے وہ ذبح کئے جاتے ہیں۔یا علاوہ ان کے خاص طور پر اس لئے پالے جاتے ہوں۔پھر فرمایا: ” ایک نہ ایک دن مالک اسے قصاب کے حوالے کر دے گا“۔(بیل کی مثال دے ر ہے ہیں ) تو ایسے ہی جو انسان خدا کی راہ میں مفید ثابت نہ ہوگا تو خدا اس کی حفاظت کا ہرگز ذمہ دار