خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 851
851 $2004 خطبات مسرور بندہ اس کے حضور اپنے ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی اور ناکام واپس کرتے ہوئے شرماتا ہے۔(ابو داؤد ابواب الوتر باب الدعاء ) تو جب بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے دعا کرتا ہے اور صدقہ و خیرات دیتا ہے، اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے،صرف اس لئے کہ اللہ کا قرب پائے ، اس کی رضا حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات میں رنگین ہونے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ تو اپنی تمام صفات میں کامل ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ بندے کو اس کی خاطر کئے گئے کسی کام پر اجر نہ دے۔اس کی دعاؤں کو قبول نہ کرے۔لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق ہی وہ اجر ملے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم کبھی بھی یہ تصور نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ بندے کے ہاتھ خالی واپس لوٹائے گا۔جب تم خالص ہو کر اس سے دعا مانگو گے تو وہ کبھی رد نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ خالص ہو کر اس کے حضور جھکنے والے ہوں، اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں اور اس کی خاطر قربانی کرنے والے ہوں۔اور کسی شرط کے ساتھ اپنے چندے یا اپنا صدقہ و خیرات پیش کرنے والے نہ ہوں۔صدقہ و خیرات اور دعا کے ضمن میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔سعید بن ابی بردہ نے والد اور اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا فرض ہے۔اس پر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جس کے پاس کچھ نہیں وہ کیا کرے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص اپنے ہاتھ سے کام کرے، اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔انہوں نے عرض کیا اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔تو آنحضور نے فرمایا وہ اپنے کسی ضرورتمند قریبی عزیز کی مدد کرے۔صحابہ نے عرض کی اگر کوئی شخص اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو۔تو اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ معروف باتوں پر عمل کرے، ان پر عمل پیرا ہو اور بری باتوں سے رکے، یہی اس کے لئے صدقہ ہے۔(بخاری کتاب الزكواة باب على كل مسلم صدقة فمن لم يجد فليعمل بالمعروف)