خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 850 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 850

850 $2004 خطبات مسرور پس جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ تو ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک ہے اس لئے کبھی بھی چندہ یا صدقہ دے کر پھر اس بات پر سو فیصد قائم نہیں ہو جانا چاہئے کہ ضرور اللہ تعالیٰ اب ہماری خواہش کے مطابق ہماری یہ دعا اور مرضی قبول فرمالے گا۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے میں دعاؤں کو ، صدقات کو قبول کرتا ہوں لیکن ان بندوں کی جو اس کی طرف جھکتے ہیں، اپنی کمزوریوں اور اپنی نالائقیوں سے آئندہ بچنے کی کوشش کرنے کا عہد کرتے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ایسے لوگوں کو جو ایسی کوشش کر رہے ہوں ، اس کی طرف آنے کی کوشش کر رہے ہوں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ اگر ایک قدم چل کے آتا ہے تو اللہ میاں دو قدم چلتا ہے اور زیادہ تیز چلتا ہے تو دوڑ کر آتا ہے، تو بہر حال جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ بندہ اس کی طرف آ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ تو بہت رحم کرنے والا ہے۔وہ تو جب بندہ خالص ہو کر اس کی طرف جھکتا ہے فوراً اپنے رحم کو جوش میں لے آتا ہے کیونکہ وہ تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ دعا اور صدقات سے میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا، یہ ضروری نہیں کہ خواہش کے مطابق کام ہو جائے۔اللہ تعالیٰ تو اگر فوری طور پر خواہش کے مطابق یعنی جو بندے کی خواہش ہے نتیجہ نہ بھی ظاہر فرمائے تو بھی بندے کی دعا اور صدقہ قبول کر لیتا ہے اور اور ذرائع سے اور وقتوں میں پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ میری دعا کا اثر ہے۔اللہ تعالیٰ کے مختلف رنگوں میں فضل ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ بغیر کسی شرط کے خالص ہو کر اس کی راہ میں قربانیاں کرتے چلے جائیں۔اور جس طرح اس نے فرمایا ہے کہ صدقہ و خیرات اور توبہ کرتے رہیں۔دعاؤں پر زور دیں۔اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ہمارا کام صرف یہ ہو کہ اس کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔صدقہ و خیرات اور چندے دینے کے بعد بھی کبھی بھی کسی قسم کا تکبر، غرور یا دکھاوا ہم میں ظاہر نہیں ہونا چاہئے بلکہ عاجزی سے ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا حیا والا ہے۔بڑا کریم ہے بنی ہے۔جب