خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 838
$2004 838 خطبات مسرور دنیا میں مختلف قسم کی طبیعتیں ہوتی ہیں۔بعض دفعہ اپنے خلاف بات سن کر رد عمل کے طور پر بھی، ایسے لوگ جن کی برائیوں کا اظہار باہر ہو جائے اور زیادہ ڈھیٹ ہو کر وہ برائی کرنا شروع کر دیتے ہیں، کہ اب تو پتہ لگ ہی گیا ہے۔جو ایک حجاب تھا وہ تو ختم ہو گیا۔تو اس سے اصلاح کا پہلو بالکل ہی ختم ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔دوسرے اگر کسی کا یہ عیب اور کمزوری اس میں بعض عہد یداروں کو بھی محتاط رہنا چاہئے ، بعض دفعہ بات کر جاتے ہیں۔کسی عہد یدار یا اس کے کسی قریبی کی طرف سے یا اس کے حوالے سے کسی کی بات باہر نکلے تو نظام کے خلاف بھی ردعمل ظاہر ہو جاتا ہے۔فرمایا پھر اس کا ذمہ دار پردہ دری کرنے والا ہے۔وہ شخص ہے جس نے یہ باتیں باہر نکالیں۔اور پردہ دری کا انذار تو آپ پہلی حدیث میں سن ہی چکے ہیں۔ایک برائی کو ظاہر کرنے سے اس کی اہمیت نہیں رہتی اور آہستہ آہستہ اگر وہ مستقلاً برائیاں ظاہر ہونی شروع ہو جائیں تو معاشرے میں پھر برائیوں کی اہمیت نہیں رہتی اور یہ تجربے سے ثابت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ حجاب ختم ہو جائے تو پھر برائی کا احساس ہی باقی نہیں رہتا۔مثلاً یہی دیکھ لیں کہ آجکل جو فلمیں اور ڈرامے ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں۔اور جب سے ایسے ڈرامے آنے لگے ہیں جس میں قتل و غارت ہو، اغوا ہو، نشہ اور ڈرگز کی باتیں ہورہی ہوں اس وقت سے یہ برائیاں زیادہ پھیل گئی ہیں۔اور ٹی وی وغیرہ نے ، میڈیا نے اس کو پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔اپنی طرف سے اصلاحی ڈرامے بناتے ہیں کہ آخر میں نتیجہ نکالیں گے کہ دیکھو مجرم پکڑے گئے۔لیکن اس میں پتہ نہیں آخر میں اصلاح کی کسی کو سمجھ آتی ہے کہ نہیں لیکن برائی ضرور پھیل جاتی ہے۔بچوں کے خیالات ٹی وی ڈرامے دیکھ دیکھ کے ہی بگڑتے ہیں۔اور جب بڑے ہوتے ہیں اور نو جوانی میں قدم رکھتے ہیں تو غریب ملکوں میں ضرورت کے لئے اور امیر ملکوں میں تفریح کے لئے وہ حرکتیں شروع ہو جاتی ہیں۔پھر یہ دیکھ لیں یہاں اس مغربی معاشرے میں آزادی کے نام پر بہت سی بے حیائیاں اور الله برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔آپ ﷺ نے جو یہ فرمایا تھا کہ ان برائیوں کے اظہار سے تم اور بگاڑ پیدا کرو گے تو آجکل اگر جائزہ لیں، جیسا کہ میں نے کہا، ان برائیوں کے اظہار کی وجہ سے ہی یہ