خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 78

78 $2004 خطبات مسرور رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو تم سچ سچ اس کے ہو جاؤ تا کہ وہ بھی تمہارا ہو جائے۔(کشتی نوح صفحہ ۱۳) اللہ کرے کہ ہم اللہ اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے والے ہوں اور ان سے حسن سلوک کر کے اللہ تعالیٰ کو اپنا بنانے والے بن جائیں۔اب میں بعض مرحومین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا ذکر گزشتہ جمعہ سے رہ گیا۔سب سے پہلے تو مکرم و محترم شیخ محبوب عالم خالد صاحب ہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۹۵ سال کی عمر پائی۔آپ خانصاحب فرزند علی خان صاحب کے بیٹے تھے۔۱۹۳۶ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے حکم سے آپ نے اپنی زندگی وقف کی اور جماعتی خدمت کا آغاز کیا۔نہایت منکسر المزاج اور مخلص اور لگن اور محنت سے کام کرنے والے تھے۔۶۸ سال تک انہوں نے اللہ کے فضل سے جماعت کی خدمت کی توفیق پائی۔ان میں بطور استاد مدرستہ البنات ، اور پھر مدرسہ احمدیہ، پھر کچھ دیر کالج میں پڑھاتے رہے اور پھر ناظر بیت المال کے طور پر، پھر حضرت خلیفة أسبح الثالث رحمہ اللہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے خدمت انجام دی۔پھر صدر، صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے عہدہ پر فائز ہوئے۔۱۹۲۹ء میں جب آپ کالج سے ریٹائر ہوئے تو صدر انجمن کے دفاتر میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے آپ کو بطور ناظر بیت المال کے لگا دیا تھا اور وفات تک تقریباً ۳۷ سال تک آپ نے خدمت کی۔صدرانجمن کے دفاتر میں۔آپ خدام الاحمدیہ کے بانی ارکان میں سے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جب خدام الاحمدیہ بنائی ہے تو جو چند بانی ارکان تھے ان میں سے آپ بھی تھے۔اور آپ اس کے پہلے جنرل سیکرٹری بنے۔پھر آپ کو خدام الاحمدیہ کے مختلف شعبوں میں بھی کام کرنے کا موقع ملا اور بارہ سال تک قائد عمومی انصار الله ر رہے۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث صدر انصار اللہ مرکز یہ ہوتے تھے۔اور وفات تک آپ مجلس انصاراللہ پاکستان کی عاملہ کے اعزازی ممبر بھی رہے۔اور پھر ۲۰۰۲ء میں حضرت طلیقہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کو صدرصد را نیمن احمد یہ منظر رفرمایا۔اور وفات تک