خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 77
$2004 77 مسرور آپ فرماتے ہیں کہ : ”جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نیک کاموں کی تبلیغ کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے۔جب اللہ تعالیٰ کسی دل کو ایسا پاتا ہے کہ اس نے مخلوق کو نفع رسانی کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ اسے توفیق دیتا اور اس کی عمر دراز کرتا ہے جس قدر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آتا ہے اسی قدر اس کی عمر دراز ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا اس کی زندگی کی قدر کرتا ہے لیکن جس قدر وہ خدا تعالیٰ سے لا پر واہ اور لا اُبالی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔اس جگہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ جو نیک اور برگزیدہ ہوتے ہیں چھوٹی عمر میں بھی اس جہاں سے رخصت ہوتے ہیں اور اس صورت میں گویا یہ قاعدہ اور اصل ٹوٹ جاتا ہے مگر یہ ایک غلطی اور دھوکا ہے“۔(حضور نے فرمایا کہ بعض لوگ بڑی نیکی کرتے ہیں۔لیکن چھوٹی عمر میں فوت ہو رہے ہوتے ہیں یہ کوئی قاعدہ نہیں ) ” دراصل ایسا نہیں ہوتا۔یہ قاعدہ کبھی نہیں ٹوٹتا مگر ایک اور صورت پر درازی عمر کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل منشاء اور درازی عمر کی غایت تو کامیابی اور بامراد ہونا ہے۔پس جب کوئی شخص اپنے مقاصد میں کامیاب اور با مراد ہو جاوے اور اس کو کوئی حسرت اور آرزو باقی نہ رہے اور مرتے وقت نہایت اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ گویا پوری عمر حاصل کر کے مرا ہے اور درازی عمر کے مقصد کو اس نے پالیا اُس کو چھوٹی عمر میں مرنے والا کہنا سخت غلطی اور نادانی ہے۔صحابہ میں بعض ایسے تھے جنہوں نے ہیں بائیس برس کی عمر پائی مگر چونکہ ان کو مرتے وقت کوئی حسرت اور نامرادی باقی نہ رہی بلکہ کامیاب ہو کر اٹھے تھے اس لئے انہوں نے زندگی کا اصل منشاء حاصل کر لیا تھا۔(الحكم جلد ٧ - نمبر ١٣ - مورخه ٢٤/اگست ۱۹۰۳ء۔صفحه ۲ - ۳ ـ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد دوم صفحه ٧٣٩ ،٧٤٠) - پھر آپ فرماتے ہیں: ”اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر