خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 797 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 797

797 $2004 خطبات مسرور تو یہ تھے وہ حالات جن میں اُس زمانے کے احمدیوں نے ، اُس وقت کے احمدیوں نے بڑھ چڑھ کر قربانیاں دیں۔اور جو مطالبہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تھا اس سے کوئی 15,14 گنا زیادہ رقم اکٹھی کر کے خلیفہ وقت کے قدموں میں لا کے رکھ دی اس لئے کہ دین کی مدد کر کے ہم بھی خدا کو راضی کریں۔وہ خدا جو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے وہ کیا کہے گا کہ جو کچھ میں نے تمہیں دیا تھا جب میرے دین کے لئے ضرورت پڑی ہے تو تم چھپانے لگ گئے ہو۔حالانکہ میرے علم میں ہے کہ کس کے پاس کیا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ اکثر نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر یہ قربانیاں خدا کو راضی کرنے کے لئے دیں۔کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ اسی میں ہماری بقا ہے کہ آج جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے چاہے وہ کم ہے لیکن ان کے لئے تو وہی بہترین حصہ تھا ، وہ اللہ کی راہ میں پیش کر دیا جائے۔کیونکہ اسی وجہ سے انہوں نے سوچا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں شمار ہو سکتے ہیں جن کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کے لئے دوڑا چلا آتا ہے جن کی اللہ تعالیٰ کی راہ میں کی گئی قربانیاں کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس تعلیم کا جو قرآن ہی کی تعلیم ہے اس کا مکمل ادراک اور سمجھ تھی۔آپ نے فرمایا کہ تم حقیقی نیکی کو جو نجات تک پہنچاتی ہے ہرگز نہیں پاسکتے بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں“۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۳۸ غرض یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مالی وسائل کم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کیا۔پھر زندگیاں وقف کیں جن کے ذریعہ سے ہندوستان سے باہر احمدیت کا پیغام زیادہ منتظم ہوکر پھیلنا شروع ہوا۔ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے دوسرے ملکوں میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں (قید بھی ہوئے )۔غرض اشاعت دین کے لئے یہ تحریک جو حضرت مصلح