خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 696 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 696

$2004 696 خطبات مسرور خرچ کرنے کا حق ہے اور اس پر رشک کرنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسی چیز دی جاتی جو اسے دی گئی تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسا یہ کرتا ہے۔(بخاری کتاب التمنّی) قرآن کریم کے پڑھنے کے بھی کچھ آداب ہیں اس کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تین دن سے کم عرصے میں قرآن کریم کو ختم کیا اس نے قرآن کریم کا کچھ نہیں سمجھا۔(ترمذی ابواب القراءة )۔بعض لوگوں کو بڑا فخر ہوتا ہے کہ ہم نے اتنے دن میں، ایک دن میں یا دو دن میں سارا قرآن کریم ختم کر لیا۔یا ہم نے اتنے منٹ میں سیپارے ختم کر دیئے یا اتنا سیپارہ ختم کر دیا۔بلکہ رمضان کے دنوں میں تو پاکستان میں (اور جگہوں پر بھی ہوگا ) غیروں کی مسجدوں میں مقابلہ ہوتا ہے کہ کون جلدی تراویح پڑھاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہماری یونیورسٹی کا کارکن تھا۔بڑا نمازی غیر از جماعت، وہ بتا تا تھا کہ میں آج فلاں مسجد میں گیا وہاں فلاں مولوی بڑا اچھا ہے اس نے تو تین منٹ میں دورکعت نماز پڑ ھادی اور آٹھ رکعتوں میں قرآن کریم کا ایک پارہ ختم کر دیا۔تو جب اسے پوچھو کہ کچھ سمجھ بھی آئی ؟ سمجھ آئی یا نہ آئی اس نے بہر حال قرآن کریم پڑھ دیا تھا۔وہ ہی ہمارے لئے کافی ہے۔حالانکہ حکم یہ ہے کہ قرآن کریم غور سے اور سمجھ کر پڑھو بھہر ٹھہر کر پڑھو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کریم خوش الحانی سے اور سنوار کر نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔۔(ابوداؤد۔كتاب الـصــلوة باب كيف يستحب الترتيل في القراءة)۔تو یہ مزید کھل گیا کہ ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ مجھ کر پڑھنا چاہئے۔