خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 697 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 697

$2004 697 خطبات مسرور اور کس طرح پڑھنا چاہیئے ؟ اس کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے۔اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے۔اور ان بداعمالیوں سے بچے جن کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔بلا مد دوحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے، اور ایسی راے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہوگی۔رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے۔اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے مدبر میں لگاوے۔دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے بھی شامل حال ہو۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے پھر آگے چل کر ایک اور قسم کا پھول چنتا ہے۔پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اٹھاوے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے۔ورنہ پھر سوال ہو گا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی۔خدا تعالی کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے فلاں راہ سے اگر سورۃ یاسین پڑھو گے تو برکت ہوگی ورنہ نہیں۔(ملفوظات جلد ۳ صفحه ۹۱۵ جدید ایڈیشن ) یہ باتیں ہوتی ہیں کہ اس طرح سورۃ یاسین پڑھی جائے تو برکت ہوگی اور اگر اس طرح ہو گی تو نہیں ہوگی۔پس ہر ایک کو اس نصیحت پر عمل کرنا چاہئے ، دلوں کو پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس طرح غور اور تدبر سے پڑھنا چاہئے جیسا کہ آپ نے فرمایا۔پھر ہر ایک