خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 656 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 656

$2004 656 خطبات مسرور دلاتے رہے ہیں۔کچھ عارضی تحریکیں ہوتی تھیں، کچھ مستقل ہوتی تھیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک احمدی کو ماہوار با قاعدہ بھیجنا چاہئے۔زکوۃ تو ایسا چندہ ہے جو ہر ایک پر لاگو بھی نہیں ہوتا، ہر ایک کے لئے واجب بھی نہیں ہے۔لیکن جماعتی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے چندوں کا نظام جماعت میں قائم ہے۔اس طرف پوری توجہ دینی چاہئے۔مالی قربانی کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے بنیادی حکموں میں سے ایک ہے۔قرآن کریم کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے بعد فرمایا ہے ﴿وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ۔مومن وہی ہیں اور نیکیاں بجالانے کی دوڑ میں شامل وہی لوگ ہیں جو اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ہے۔یہ نہیں کہ جب مالی قربانی کا سوال اٹھے تو بہانے بنانے شروع کر دیئے کہ ہم خود ہی جماعت کی براہ راست فلاں فلاں قربانی کر رہے ہیں۔کام کر رہے ہیں یا اپنے کسی عزیز کی خدمت کر رہے ہیں اس لئے ہمیں چندوں سے چھوٹ مل جانی چاہئے۔تو یہ نیکیوں میں پیچھے رہنے والی باتیں ہیں اور نفس کے بہانے ہیں۔پھر فرمایا کہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو۔ان کا خیال رکھو، ان کے جذبات کا بھی خیال رکھو، ان کی ضروریات کا بھی خیال رکھو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائیے کہ وہ مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے، آپ نے فرمایا تم نے ایک بہت بڑی اور مشکل بات پوچھی ہے لیکن اگر اللہ تعالی توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے۔فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔نماز پڑھ۔باقاعدگی سے زکوۃ ادا کر۔رمضان کے روزے رکھ۔اگر زادراہ ہو تو بیت اللہ کا حج کر ، اگر اجازت ہو، وسائل بھی ہوں اور امن بھی ہو تو حج کرو۔پھر آپ نے یہ فرمایا : کیا میں بھلائی اور نیکی کے دروازے کے متعلق تجھے نہ بتاؤں۔سنو روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے۔صدقہ