خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 494
$2004 494 خطبات مسرور دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ﴾ (البقرة: 223) یعنی جو لوگ باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں میں ان کو دوست رکھتا ہوں۔ظاہری پاکیزگی ، باطنی طہارت کی ممد اور معاون ہے۔یعنی ظاہری پاکیزگی کی وجہ سے باطنی پاکیزگی بھی ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے جو چاہیں۔اگر انسان اسے ترک کر دے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے تو باطنی پاکیزگی پاس بھی نہیں پھٹکتی۔پس یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔اس لئے ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کے دن ضرور غسل کرے، ہر نماز میں وضو کرے، جماعت کھڑی ہو تو خوشبوں گائے ، عیدین اور جمعہ میں جو خوشبو لگانے کا حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے غسل کرنے اور پاک صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے سمیت اور عفونت سے روک ہوگی۔یعنی زہر اور عفونت سے روک ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ قانون مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه 164 رسالة الانذار صفحه ٥٤ تا ٧٣ پھر آجکل گرمیوں میں اب یہاں بھی کافی گرمی ہونے لگ گئی ہے، پسینہ کافی آتا ہے تو خاص طور پر یہ اہتمام ہونا چاہئے کہ مسجدوں میں یہاں کیونکہ قالین بھی بچھے ہوتے ہیں اس لئے جرابوں کی صفائی کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔روزانہ دھلی ہوئی جراب پہنی چاہئے۔تاکہ مجلس میں بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ ( کئی قسم کی طبائع کے لوگ ہوتے ہیں ) بھی کو برا نہ منائیں۔مجالس کے آداب کے ضمن میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ایک حدیث میں روایت اس طرح ہے یقینا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو الحمد للہ کہے اور ہر وہ شخص جو الحَمْدُ لِلہ کی آواز سنے اسے چاہئے کہ وہ کہے يَرْحَمُكَ الله یعنی اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے۔جہاں تک جمائی کا تعلق ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے دبانے کی کوشش کرے، بعض لوگ تو نہیں دبا سکتے لیکن کوشش یہ کرنی چاہئے کہ دبائی جائے۔لیکن کم از کم یہ ضرور ہوفر مایا کہ منہ کھول کر ہاہا نہ کرے۔کیونکہ جمائی