خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 493

493 $2004 خطبات مسرور کچھ دیکھا ہی نہیں ہوتا۔اس لئے آگے بڑھ کر صرف کتے کا کان ہی پکڑتے ہیں۔اچھی مجلسوں سے فائدہ اٹھانا بھی مومن کی شان ہے۔اب بعض مجالس کے حقوق کا میں ذکر کرتا ہوں کہ مجلسوں کے آداب کیا ہیں، ان کے حقوق کیا ہیں اور ان میں بیٹھنا کس طرح چاہئے۔آنحضرت ﷺ جب مجلس میں آتے آپ کی یہ کوشش ہوتی کہ کسی کو تکلیف نہ ہو اس لئے ہمیشہ اس حالت میں مجلس میں آیا جائے جو مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لئے بھی آسانی کا باعث بنے اور ان کی طبیعتوں پر بھی اچھا اثر ڈالے۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ علے اس بات کو نا پسند فرماتے تھے کہ آپ کے وجود سے ایسی بُو آئے جس سے تکلیف ہو۔(مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار) دیکھیں کتنی نفاست ہے، حالانکہ آپ کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ کے جسم سے ایک عجیب طرح کی خوشبو اٹھا کرتی تھی، بد بو کا تو سوال ہی نہیں تھا۔تو اصل میں تو یہ اظہار اپنی مثال دے کر دوسروں کے لئے تھا کہ آپ کی نفیس طبیعت پر گراں تھا کہ کوئی بھی ایسی حالت میں مجلس میں آئے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔اس لئے جمعہ وغیرہ پر عیدین پر ہمیشہ خوشبولگا کر آنے کی تلقین ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ یہ دن یعنی جمعہ کا دن عید ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے لئے بنایا ہے۔جو کوئی جمعہ ادا کرنے کی غرض سے آئے اسے چاہئے کہ وہ غسل کرے اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبولگائے اور مسواک کرنا اپنے لئے لازمی کرلو۔(سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلواة والسنة فيها باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة) تو یہ بھی مجالس کے آداب میں سے ایک ادب ہے اور مجلس کے حقوق میں سے اس کا ایک حق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” کہ انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔جو شخص باطنی طہارت پر قائم ہونا چاہتا ہے وہ ظاہری پاکیزگی کا بھی لحاظ رکھے۔پھر ایک