خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 492

492 $2004 خطبات مسرور میں صحبت بد سے پر ہیز کرنے کی تاکید اور تہدید پائی جاتی ہے۔اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اہانت ہوتی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤ۔ورنہ جو اہانت سن کر نہیں اٹھتا اس کا شمار ان میں ہی ہوگا۔صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے اس لئے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ﴾ کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالی ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے۔وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھ لیتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذ کر کر رہے تھے۔مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں سے ہی ہے کیونکہ انهُمْ قَوْمٌ لَا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کی صحبت سے کس قدر فائدے ہیں۔سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دور ہے“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 507ـ الحکم جنوری ١٩٠٤) بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پاک مجالس میں تو بیٹھتے ہیں لیکن ان مجالس کی نیکیوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔بلکہ ان کی سوچ ہی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی بری بات نظر آئے تو اس کو لے کر زیادہ شور مچایا جاتا ہے۔تو ایسے لوگوں کی ہی مثال دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس شخص کی مثال جو حکمت کی بات سنے اور پھرسنی ہوئی باتوں میں سے سب سے شرانگیز بات کی پیروی کرے ایسے شخص کی ہے جو ایک چرواہے کے پاس آیا اور کہا کہ اپنے ریوڑ میں سے مجھے ایک بکری کاٹ دو۔تو چرواہا اسے کہے کہ اچھار یوڑ میں سے تمہیں جو بکری سب سے اچھی لگتی ہے اسے کان سے پکڑ لو۔تو وہ جائے اور ریوڑ کی حفاظت کرنے والے کتے کو کان سے پکڑ لے۔(مسند احمد باقی مسند المكثرين باقى المسند السابق تو ایسے لوگ جو اس سوچ کے ہوتے ہیں اور اس سوچ سے مجلسوں میں آتے ہیں باہر نکل کر اچھی باتوں کا ذکر کرنے کی بجائے اگر انہوں نے کسی کی وہاں برائی دیکھی ہو تو اس کا زیادہ چرچا کرتے ہیں۔کیونکہ ان کی صلاحیت ہی یہی ہے اور ان کی کم نظری یہ ہے کہ انہوں نے کتے کے علاوہ