خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 437 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 437

$2004 437 خطبات مسرور ہوگا۔اس لئے اپنے دین کے سیکھنے پر بھی بہت غور کرنا چاہیئے۔پھر ایک روایت ہے حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر کی غرض سے روانہ ہونے کیلئے سورج کے غروب ہو جانے سے رات کی سیاہی کے دور ہونے تک اپنے جانوروں کو نہ کھولو کیونکہ رات کی تاریکی میں شیاطین چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الجهاد باب فى كراهية السير في اول الليل تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رات کو سفر کرنے سے بچیں۔یہاں بھی یورپ میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی وقت بچانے کے لئے رات کا سفر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔اور خاص طور پر جب کاموں سے فارغ ہو کر چاہے وہ دنیاوی کام ہوں یا دینی مقاصد کیلئے سفر ہوں اجتماعوں، جلسوں وغیرہ پر آنے جانے کے لئے اس طرح سفر کرنا چاہئے کہ اگر انتہائی مجبوری بھی ہو تو کم از کم نیند پوری ہو جائے۔اور یہ تسلی ہو کہ راستہ بھی محفوظ ہے۔بہت سے حادثات صرف نیند نہ لینے کی وجہ سے یا تھکاوٹ کی وجہ سے ہو جاتے ہیں۔اور پھر ہم سب کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔اس لئے ہمارے محسن اعظم ﷺ نے جو بظاہر چھوٹی چھوٹی نصائح ہمیں فرمائی ہیں ان کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے اور ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دعا کی کہ : اے اللہ میری امت کے علی الصبح کئے جانے والے سفروں میں برکت رکھ دے۔یہ روایت حضرت صحر غامدی کی ہے۔پھر وہ کہتے ہیں کہ آنحضور ﷺ جب کسی سریہ یا کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو اسے دن کے پہلے حصے میں روانہ فرماتے۔اور صحر ایک تاجر شخص تھے وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے تجارتی اموال دن کے پہلے حصے میں روانہ کرتے تھے۔اور اسی وجہ سے وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت بڑھ گیا۔( سنن ابی داؤد كتاب الجهاد باب في الابتكار في السفر) تو کاروباری آدمی کو بھی سفر صبح صبح کرنا چاہئے۔کوئی بھی سفر ہو جلدی نکلنا چاہئے کیونکہ صبح