خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 35

$2004 35 خطبات مسرور آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک کچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔سو میں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدددیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے اُن علوم اور برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالے کی پاک روح نے مجھے دی ہیں“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۱۶) فرماتے ہیں: چاہئے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس ( یعنی ہر شخص یہ عہد کرے کہ میں اتنا چندہ دیا کروں گا۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے۔اس دفعہ تبلیغ کے لئے جو بڑا بھاری سفر کیا جاوے اس میں ایک رجسٹر بھی ہمراہ رکھا جاوے۔جہاں کوئی بیعت کرنا چاہے اس کا نام اور چندے کا عہد درج رجسٹر کیا جاوے۔اب یہ بات پہلے دن سے ہی نو مبایعین کو سمجھا دینی چاہئے۔شروع میں اگر وہ با شرح چندہ عام وغیرہ نہیں دیتے یا نہیں دے سکتے تو کسی تحریک میں مثلاً وقف جدید میں یا تحریک جدید میں چندہ لیں، پھر آہستہ آہستہ ان کو عادت پڑ جائے گی اور پھر ان کو بھی چندوں کی ادائیگی میں مزا آنے لگے گا اور ایک فکر پیدا ہوگی۔جیسا کہ ہم میں سے بہت سے ہیں جن کو فکر ہوتی ہے، بہت سارے لوگ خطوں میں لکھتے ہیں کہ بڑی فکر ہے ہم نے اتنا وعدہ کیا ہوا ہے وقف جدید کے چندے کا یا تحریک جدید کے چندے کا اور پورا کرنا ہے، وقت گزر رہا ہے، دعا کریں پورا ہو جائے۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ ہمدردی ہمیں نو مبایعین سے بھی ہونی چاہئے اور ان کو بھی چندوں کی عادت ڈالنی چاہئے۔