خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 303
$2004 303 خطبات مسرور جائیدادوں کے ساتھ یہی حشر کرتی ہیں۔تیسرے فرمایا کہ یا پھر اللہ تعالیٰ سے ہی اس قوم کی ٹکر ہو جاتی ہے یعنی کوئی ایسا سبب پیدا ہو جاتا ہے کہ دنیاوی تباہی کے سامان تو نہیں ہوتے لیکن خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو کر اس قوم کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔غرض جب کوئی قوم تکاثر کے نتیجہ میں زُرْتُمُ الْمَقَابِر کے مقام تک پہنچ جائے تو اس میں ان تین حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔یا تو رعایا میں رد عمل پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے حاکموں کو توڑ دیتے ہیں۔یا اندرونی طور پر حکام میں ایسا تنزل پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ آپ ہی آپ ٹوٹنے لگتے ہیں، یا ایسے امراء جن کی اولادوں کی صحیح تربیت نہیں ہوتی وہ اپنی جائیدادیں کھا کے خود بخود ختم کر جاتے ہیں۔اور ایسے بھی لوگ دیکھے گئے ہیں جن کے باپ دادے بڑے امیر اور صاحب جائیداد تھے اور اولادیں اب در در کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہیں۔اور پھر تیسری بات بتائی کہ یا پھر خدائی غضب نازل ہوکر ان کو تباہ کر دیتا ہے“۔(تفسیر کبیر جلد نهم صفحه ٥٣٦،٥٣٥) مال سے بے رغبتی اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کے بارے میں چندا حادیث پیش کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کی اس قدر فکر تھی کہ وہ صرف دنیا داری میں مبتلا نہ ہو جائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ اندیشہ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میری امت خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے گی۔اور دنیاوی توقعات کے لمبے چوڑے منصوبے بنانے میں لگ جائے گی۔تو اس خواہش نفس کی پیروی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ حق سے دور جا پڑے گی۔اور دنیا سازی کے منصوبے آخرت سے غافل کر دیں گے۔اے لوگو! یہ دنیا رخت سفر باندھ چکی ہے اور جارہی ہے اور آخرت بھی آنے کے لئے تیاری پکڑ چکی ہے۔اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے کچھ غلام اور بندے ہیں۔پس اگر تم میں استطاعت ہو کہ دنیا کے بندے نہ بنوتو ضرور ایسا کرو۔تم اس وقت عمل کے گھر میں ہو اور ابھی حساب کا وقت نہیں آیا مگر کل تم