خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 168

168 $2004 خطبات مسرور آدمی اپنے بھائی کے ساتھ وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو مگر کسی وجہ سے وہ اس کو پورا نہ کر سکے اور وقت پر نہ آئے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔(سنن ابو داؤد ـ باب فی العدة) تو ایسے لوگوں کی پھر اللہ تعالیٰ بھی مدد فرماتا ہے۔کیونکہ ان کی نیت نیک ہوتی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا تھا۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کا قصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ وہ اپنی قوم کے ایک امیر شخص کے پاس گیا اور ایک ہزار اشرفی کا اس سے قرض مانگا تو اس شخص نے کہا تمہارا ضامن کون ہے تو اس نے کہا کہ میرا ضامن تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔پھر اس نے کہا کہ گواہ کون ہو گا ، اس نے کہا گواہ بھی میرا خدا تعالیٰ ہی ہے۔قرض دینے والے نے اس کی بات پر اعتبار کر لیا اور مقررہ مدت کے لئے ایک ہزار اشرفی اس کو دے دی اس کے بعد قرض لینے والا اپنے کام سے سمندری جہاز پر بیٹھا اور چلا گیا جب قرض کی واپسی کا وقت قریب آیا تو وہ ساحل سمندر پر آیا کہ واپس جائے کیونکہ اس کا کام بھی ختم ہو گیا تھا اور جس سے قرض لیا ہے اس کی ایک ہزار اشرفی بھی واپس کر سکے تو کئی دن وہ ساحل پر انتظار کرتار ہا لیکن کوئی جہاز نظر نہیں آ رہا تھا جس پر وہ جاسکے۔تو آخر اس نے یہ سوچا کہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اس عرصے میں اس وقت تک بہر حال میں رقم ادا کروں گا اور اللہ تعالیٰ میرا گواہ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی میرا ضامن ہے تو اس نے ایک لکڑی لی اس میں سوراخ کیا اور اس میں ایک ہزار اشرفی ڈال کر اور ساتھ ایک خط لکھ کر کہ میں نے بڑی کوشش کی ہے مجھے سواری نہیں مل سکی تو میں نے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ضامن ٹھہرایا ہے، اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرایا ہوا ہے اس لئے اسی کے بھروسے پر یہ لکڑی سمندر میں ڈالتا ہوں اور پھر دعا کی کہ: اے اللہ ! تیری خاطر اس شخص نے مجھے قرض دیا تھا اور تو میرا ضامن اور گواہ ہے اس لئے اس تک پہنچا بھی دے۔اتفاق سے جس دن قرض کی واپسی کا وعدہ تھا جس شخص نے قرض دیا تھا وہ