خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 169

$2004 169 خطبات مسرور بھی دوسری طرف سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر شاید جہاز آتا ہو اور جس نے میرا قرض واپس کرنا ہے آ جائے ، تو اس کو جہاز تو کوئی نظر نہیں آیا البتہ ایک لکڑی تیرتی ہوئی نظر آئی ، درخت کا ایک ٹکڑا۔اس نے اس لکڑی کو کنارے سے نکال لیا اور گھر لے گیا کہ جلانے کے کام آئے گی۔تو گھر جا کر جب اس نے چیرا لکڑی کو کلہاڑے سے پھاڑا تو اس میں سے ایک ہزار اشرفی اور وہ خط نکل آیا۔اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ وجہ ہو گئی جس کی وجہ سے میں نہیں آسکا۔بہر حال کچھ دنوں کے بعد اس کو جہاز بھی مل گیا اور وہ جہاز پہ بیٹھ کر وہ اپنے گھر پہنچ گیا ، جس سے قرض لیا تھا اس شخص کو بھی پیسے دینے کے لئے گیا کہ یہ لو اپنی ایک ہزار اشرفی تو جس نے قرض دیا تھا اس نے کہا کہ تم نے مجھے پہلے بھی کوئی رقم بھیجی ہے؟ اس نے کہا ہاں یہ رقم میں نے بھیجی تھی، اس نے کہا ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ نے وہ مجھے پہنچا دی ہے۔اور عین وقت پہ پہنچا دی ہے۔(بخارى كتاب الكفالة باب الكفالة في القرض والديون) - تويه ہے عہدوں کا پاس۔کہ جب اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کوئی عہد کریں تو اللہ تعالیٰ بھی مددفرماتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ اصحاب جبکہ ہم ابھی بچے تھے جھوٹی قسمیں کھانے اور جھوٹی گواہی دینے اور عہد کر کے پورا نہ کرنے پر ہماری سرزنش فرمایا کرتے تھے۔(مسندا احمد بن حنبل) تو اعلیٰ اخلاق کی تربیت ہمیشہ بچپن سے ہی ہوتی ہے۔اس لئے ہمیں بھی اپنے بچوں کی بچپن سے ہی تربیت کرنی چاہئے اور یہ نہیں کہ ابھی عمر نہیں آئی اس لئے تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں جو بظاہر چھوٹی لگتی ہیں یہی بڑے ہو کر اعلیٰ اخلاق بنتے ہیں۔حضرت ابوامامہ باہلی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا مجھ سے کون عہد باندھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان نے عرض کیا حضور میں عہد باندھنے کے لئے تیار ہوں، حضور نے فرمایا عہد کرو کہ تم کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگو گے، اس پر