خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 7
7 $2004 خطبات مسرور نے اللہ کی خاطر ایک درجہ تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ رفع کرے گا یعنی اس کو ایک درجہ بلند کرے گا۔جس نے عاجزی اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا یہاں تک کہ اسے علیین میں جگہ دے گا۔بہت اونچے مقام پر لے جائے گا اور جس نے اللہ کے مقابل پر ایک درجہ تکبر اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے گرادے گا یہاں تک کہ اسے اسفل السافلین میں داخل کر دے گا (مسند احمد بن حنبل باقی مسند المكثرين من الصحابة جلد ۳ صفحہ ۷۶ )۔یعنی انتہائی نچلے درجے پر جہنم کے بھی نچلے درجے میں لے جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اسفل السافلین میں گرنے سے بچائے۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا ہر انسان کا سر دو زنجیروں میں ہے۔ایک زنجیر ساتویں آسمان تک جاتی ہے اور دوسری زنجیر ساتویں زمین تک جاتی ہے۔جب انسان تواضع یا عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زنجیر کے ذریعہ اسے ساتویں آسمان تک لے جاتا ہے اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زنجیر کے ذریعہ اسے ساتویں زمین تک لے جاتا ہے۔انتہائی نیچے گرا دیتا ہے۔(کنز العمال حدیث ۵۷۴۵) پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے دنیا میں اپنا سر بلند کیا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کاٹ دے گا۔اور جس نے خدا کی خاطر دنیا میں تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف ایک فرشتہ بھجوائے گا جو اسے مجمعے میں سے اپنی طرف کھینچ لے گا اور کہے گا کہ اے صالح بندے اللہ تعالی کہتا ہے میری طرف آ، میری طرف آن، کیونکہ تو ان لوگوں میں سے ہے جن کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(کنز العمال ۵۷۴۶) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اے عائشہ اے عائشہ ! عاجزی اختیار کر کیونکہ اللہ تعالیٰ عاجزی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اور تکبر کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔(کنز العمال ۵۷۳۴) اب حضرت عائشہ کو حالانکہ ان کا بھی ایک مقام تھا اور بڑی عاجزی تھی ان میں بھی۔آپ