خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 6
$2004 6 خطبات مسرور اسی پر فخر ہونے لگ جاتا ہے۔اس تعلیم پر نظر نہیں۔اگر ہر ایک کی اس تعلیم پر نظر ہو جو ہمیں آنحضرت نے دی تو فخر کے بجائے ہم میں سے ہر ایک میں ہر وقت عاجزی ہی عاجزی نظر آنی چاہئے۔پھر دیکھیں روایت میں ہے جس میں آپ نے اپنے زبردست مقام کے بارے میں اعلان فرمایا ہے کہ اَنَا سَيَّدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ۔یعنی پہلی بات تو یہ آنَا سَيَّدُ وُلْدِ آدَمَ۔اور پھر ساتھ ہی عاجزی کا بھی ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے کہ پھر فرما رہے ہیں وَلَا فَخْرَ۔کہ میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں اور یہ بہت بڑا اعلان ہے لیکن عاجزی کی انتہا کہ مگر کوئی فخر نہیں کرتا۔اس میں مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔( مسنداحمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۲ مطبوعہ بیروت ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے لئے اس طرح تواضع اختیار کی۔یہ فرماتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو زمین کے ساتھ لگا دیا۔اس کو میں اس طرح بلند کروں گا اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی ہتھیلی کو آسمان کی طرف اونچا کرنا شروع کیا اور بہت بلند کر دیا یعنی جو عاجزی اختیار کرے اور زمین کے ساتھ لگ جائے اس کو خدا تعالیٰ خود بلند کرتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل مسند العشر المبشرين بالجنة جلد ا صفحه ۴۴ مطبوعه بيروت) اب ایسے لوگ جن کو اپنی بڑائی بیان کر کے اپنے مقام کا اظہار کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے ان کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ بلند مقام عاجزی سے ہی ملتا ہے۔اچھا با غبان یا مالک ہو باغ کا وہ ہمیشہ درخت کی اس شاخ کی قدر کرتا ہے۔جو پھلوں سے لدی ہو اور زمین کے ساتھ لگی ہو۔اسی طرح مالک ارض و سما اس سر کی قدر کرتا ہے جو زمین کی طرف جھکتا ہے۔عاجزی کے مقابلے پہ فخر غرور اور تکبر ہی ہے یعنی اس کا الٹ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ شرک کے بعد تکبر جیسی کوئی بلا نہیں۔اگر غور کریں تو تکبر ہی آہستہ آہستہ شرک کی طرف بھی لے کر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہمیشہ عاجزانہ راہوں پر چلائے۔پھر ایک روایت ہے حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا جس