خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 897 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 897

$2004 897 خطبات مسرور وقت کے لحاظ سے مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں بیٹھ گیا۔جب یہ وفد واپس قادیان پہنچا اور حضرت اقدس کی خدمت میں اس جلسہ کی رپورٹ پیش کی تو حضور کو اس قدر رنج پہنچا کہ الفاظ میں اسے بیان کرنا مشکل ہے۔جو صحابہ اس موقع پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس کی زبان فیض ترجمان سے بار بار یہ الفاظ نکلتے تھے کہ تمہاری غیرت نے یہ کیسے برداشت کیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گالیاں سنتے رہے۔تم لوگ اس مجلس سے فوراً اٹھ کر باہر کیوں نہ آ گئے۔(حیات نور صفحه 308) تو یہ ہے آپ کی تعلیم ، آپ کے دلی جذبات اور آپ کا عملی نمونہ آنحضرت ﷺ کی محبت میں سرشار ہونے کا اور آپ کی خاطر غیرت دکھانے کا۔یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں ورنہ بے شمار مثالیں ہیں۔اور یہی نمونے قائم کرنے کی آپ نے اپنی جماعت سے امید رکھی ہے۔اور نصیحت فرمائی ہے۔آج مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک عزت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ان مخالفین کو اس کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ تمہاری عقلوں اور آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لئے تمہیں کچھ نظر نہیں آ رہا۔آج تمہارے پاس طاقت ہے تو تم جو چاہو کرنے یا کہنے کی کوشش کرو، کرتے رہو، کہتے رہو۔مولوی کی آنکھ پر پردے تو پڑے ہوئے تھے ہی اور ہیں ہی۔ان کا کام تو صرف فساد اور نفرتیں پھیلانا ہی ہے افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی باوجود جاننے کے اور ذاتی مجالس میں اس کے اظہار کے پھر بھی کھلے عام یہ اعتراف نہیں کرتے کہ جماعت احمدیہ ہی ہے جو سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والی ہے اور آپ کی تعلیم کی پیروی کرنے والی ہے۔اتکا د گا آپ کو ملیں گے، آپ کے دوست ہوں گے، یہی اعتراف کریں گے۔لیکن اس علم کے باوجود کبھی کھل کے نہیں کہہ سکتے۔اور جیسا کہ میں کہا، بعض دفعہ اظہا ر ہو چکا ہے،اور اس اظہار کے باوجود، 1974ء میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا جو قانون پاس کیا تھا اس کے بارہ میں بھی اظہار ہوتا ہے کہ یہ غلط تھا۔اور اس وقت مُلاں کو خوش کرنے کے لئے یا جو بھی مقاصد تھے اس