خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 848 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 848

خطبات مسرور $2004 848 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا الَمْ يَعْلَمُوْا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَتِ وَاَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (سورة التوبه آيت :104) کیا انہیں علم نہیں ہوا پس اللہ ہی اپنے بندوں کی تو بہ منظور کرتا ہے اور صدقات قبول کرتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔چند جمعے پہلے جب میں نے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کیا تھا تو اس میں یہ مثال بھی دی تھی کہ بعض خواتین نے جن کے اولاد نہیں ہوتی تھی ، بچوں کی طرف سے بھی چندہ دینا شروع کر دیا مثلاً اگر دو تین چار بچوں کی طرف سے چندہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اتنے بچے عطا فرما دیئے۔اس پر بعض خط آئے ، ملتے جلتے قسم کے، کہ آپ نے کہا تھا کہ جن کے اولاد نہیں ہوتی اگر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کر دیں تو ضرور اولاد ہو جائے گی۔اور پھر یہ کہ ہمارے بچوں کے نام بھی رکھ دیں تا کہ ہم ان کی طرف سے چندہ دینا شروع کر دیں کیونکہ بغیر نام کے چندہ نہیں دیا جا سکتا۔تو پہلی بات تو یہ کہ میں نے یہ بالکل نہیں کہا تھا کہ ضرور اولا د ہو گی۔میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ دعا اور صدقات اور چندے کی برکت سے فوری نظارے دکھا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا احمدیوں کے ساتھ یہ سلوک بھی ہے۔میں وہ بات کس طرح کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔جس کا اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ میں لوگوں کو بیٹے