خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 842 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 842

$2004 842 خطبات مسرور کمزوریاں تو گنوائی ہیں اس کی خوبیوں کا بھی ذکر کیا ہوتا ہے۔(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب - صفحه (57) خوبیاں بیان کرنے سے نیکیاں پھیلتی ہیں۔کسی نے مالی قربانی کی کسی نے اور کسی قسم کی قربانی کی ، ان قربانیوں کا جب ذکر کیا جاتا ہے تو دوسروں میں بھی جوش پیدا ہوتا ہے۔لیکن اگر برائیاں ہی معاشرے میں ذکر کی جاتی رہیں تو پھر برائیاں ہی پھیلتی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے پھر وہ معیار ختم ہو جاتے ہیں۔حجاب ختم ہو جاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ کسی کی برائیاں بیان کر کے اس کے لئے شرمندگی یا غصے کے سامان کر رہے ہوتے ہیں۔اگر خوبیاں بیان کی جائیں تو اس سے بھی بچت ہو جاتی ہے۔معاشرہ مزید بگاڑ سے بچ جاتا ہے اور پھر یہ دوسروں کی برائیاں بیان کر کے انسان خود بھی گناہگار بن رہا ہوتا ہے اگر صرف لوگوں کی اچھائیاں اور خوبیاں ہی بیان کی جائیں تو اس سے بھی اپنے آپ کو محفوظ کر لیتا ہے۔تو ایک پردہ پوشی اور کئی نیکیوں کو جنم دیتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اصل میں انسان کی خدا تعالیٰ پردہ پوشی کرتا ہے کیونکہ وہ ستار ہے اور بہت سے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ستاری نے ہی نیک بنارکھا ہے ور نہ اگر خدا تعالیٰ ستاری نہ فرمائے تو پتہ لگ جاوے کہ انسان میں کیا کیا گند پوشیدہ ہیں۔پھر فرمایا کہ انسان کے ایمان کا بھی کمال یہی ہے کہ تخلق باخلاق اللہ کرے۔یعنی جوا خلاق فاضلہ خدا میں ہیں اور صفات ہیں ان کی حتی المقدور اتباع کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے۔مثلاً خدا تعالیٰ میں عفو ہے انسان بھی عفو کرے، رحم ہے، حلم ہے، کرم ہے، انسان بھی رحم کرے، حلم کرے لوگوں سے کرم کرے۔خدا تعالیٰ ستار ہے، انسان کو بھی ستاری کی شان سے حصہ لینا چاہئے۔اور اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہئے“۔عیبوں اور گناہوں اور غلطیوں کی پردہ پوشی کرنی چاہئے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی کی بدی یا نقص دیکھتے ہیں، جب تک اس کی اچھی طرح سے تشہیر نہ کر لیں ان کا کھانا ہضم