خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 839 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 839

خطبات مسرور 839 برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری اولادوں کو بھی ان برائیوں سے محفوظ رکھے۔$2004 پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ” یقینا اللہ تعالیٰ حیا اور ستر کو پسند فرماتا ہے (مسند احمد بن حنبل جلد 4صفحه 224) یہ دیکھیں یہ بھی پہلی حدیث سے ملتی ہے کہ اگر آج یہ بے حیائیاں پھیلی ہوئی ہیں۔میڈیا جو بے حیائیاں پھیلا رہا ہے، حیا اور ستر قائم ہو جائے تو آدھے سے زیادہ برائیاں بگاڑ اور خاندانوں کے مسائل اور جرائم ختم ہو جائیں گے اور معاشرے کے گند اور برائیاں ختم ہو جائیں گی۔کیونکہ اخباروں اور ٹی وی نے حیا کا احساس مٹا دیا ہے۔پارکوں میں سرعام بیہودگیاں ہو رہی ہوتی ہیں اور یہ سب کچھ حیا کے فقدان کی وجہ سے ہے۔مغرب میں تو حیا اور ستر کے معیار بالکل بدل ہی گئے ہیں۔پس ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے کی بجائے ہمیں اپنے لئے اور اپنی اولا دوں کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے محفوظ رکھے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بہت فضیلت والی آیت یہ ہے ( آپ نے ما اصابکم والی آیت پڑھی ) کہ جو بھی تمہیں مصیبت پہنچتی ہے یہ تمہارے اپنے کئے کی سزا ہے۔اور اللہ بہت سے قصوروں کو تو معاف ہی کر دیتا ہے اور درگزر فرماتا ہے۔اور ما اصابکم کی تفسیر یہ بیان فرمائی کہ سزا اور دوسری دنیاوی مصیبتیں ہیں جو انسان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کرم اس بات سے مانع ہے کہ آخرت میں دوبارہ وہ ان غلطیوں پر گرفت فرمائے۔اور جن غلطیوں کو اس نے دنیا میں معاف فرما دیا ہے اور کوئی گرفت نہیں فرمائی۔اس کا حلم اس میں مانع ہو گا کہ عفو اور درگزر کے بعد پھر گرفت فرمائے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه (85 ان حدیثوں سے اللہ تعالیٰ کا بندے سے عفو اور مغفرت کے سلوک کا اظہار ہوتا ہے۔اس لئے بندے کا بھی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی پردہ دری کرتا پھرے۔بلکہ دوسروں کے لئے بھی دعا