خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 76

$2004 76 مسرور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دوسرے طور پر جو ہمدردی بنی نوع سے متعلق ہے اس آیت ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَائِ ذِي الْقُرْبَى۔۔۔(النحل:۹۱) کے یہ معنے ہیں کہ اپنے بھائیوں اور بنی نوع سے عدل کرو اور اپنے حقوق سے زیادہ اُن سے کچھ تعرض نہ کرو اور انصاف پر قائم رہو۔اور اگر اس درجہ سے ترقی کرنی چاہو تو اس سے آگے احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تُو اپنے بھائی کی بدی کے مقابل نیکی کرے اور اُس کی آزار کی عوض میں تو اس کو راحت پہنچاوے اور مروت اور احسان کے طور پر دستگیری کرے۔پھر بعد اس کے ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو جس قدر اپنے بھائی سے نیکی کرے یا جس قدر بنی نوع کی خیر خواہی بجالا وے اس سے کوئی اور کسی قسم کا احسان منظور نہ ہو بلکہ طبعی طور پر بغیر پیش نہاد کسی غرض کے وہ تجھ سے صادر ہو جیسی شدت قرابت کے جوش سے ایک خویش دوسرےخولیش کے ساتھ نیکی کرتا ہے۔سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق میں کوئی نفسانی مطلب یامد عایا غرض درمیان نہ ہو بلکہ اخوت و قرابت انسانی کا جوش اس اعلیٰ درجہ پر نشو ونما پا جائے کہ خود بخود کسی تکلف کے اور بغیر پیش نہاد ر کھنے کسی قسم کی شکر گزاری یا دعا یا اور کسی قسم کی پاداش کے وہ نیکی فقط فطرتی جوش سے صادر ہو۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵۲٬۵۵۱) یعنی نیکی جب کرو تو اس کے بدلہ میں کسی انعام کا اور کسی چیز کے لئے تمہارے دل میں کوئی خیال نہ ہو۔پھر فرمایا کہ : ” جو شخص قرابت داروں سے حسن سلوک نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“۔(کشتی نوح صفحہ ۱۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ نیکیاں اور حسن سلوک کر کے تمہیں ذاتی فائدے ہی ملیں گے، اسی دنیا میں ملیں گے۔اور وہ کیا ہیں کہ تمہیں چین نصیب ہوگا اور عمر میں برکت پیدا ہوئی۔