خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 789 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 789

789 $2004 خطبات مسرور ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس احساس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اس سے عفو اور بخشش کے طلبگار ہوں۔پھر جیسا کہ ہم جانتے ہیں اور ہمیں یہ علم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا ہے لیلۃ القدر کے صرف اتنے ہی معنے نہیں ہیں کہ رمضان کے آخری عشرے میں چند راتوں میں سے ایک رات آگئی اور اس میں دعائیں کرلی جائیں اور بس۔بلکہ اس کے اور بھی بہت وسیع معنے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک لیلۃ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالی تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں لیکن ایک معنے اس کے اور ہیں جس سے بدقسمتی سے علماء مخالف اور منکر ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو ایسی رات میں اتارا ہے کہ تاریک و تار تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی۔خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جبکہ اس نے فرمایا مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنَ ﴾ (الذاریات: (57) پھر جب انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ تاریکی ہی میں پڑا رہے۔ایسے زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہوس إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ (الـقـدر :2) اس زمانہ ضرورت بعثت آنحضرت ﷺ کی ایک اور دلیل ہے۔(الحكم جلد 10 نمبر 27 مورخه 31 جولائی 1906ء صفحه (4) فرمایا کہ لیلۃ القدر یہی نہیں ہے جو آخری عشرہ رمضان میں ایک رات آتی ہے۔بلکہ اس کے اور بھی معنے ہیں اور وہ یہ کہ جب زمانہ دنیا داری کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے اور شرک انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔بہت سے لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسی حالت میں اپنی مخلوق کو اس گند سے نکالنے کے لئے کسی مصلح نبی ، یارسول کو بھیجتا ہے۔اور یہ جو برائیوں میں ڈوبنے کا زمانہ ہے یہ بھی فرمایا کہ تاریک رات کی طرح ہی ہے تو فرمایا کہ وہ بھی ایک تاریک زمانہ تھا جب شرک عام تھا لوگ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے اس وقت پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا اور دنیا کو اس کی