خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 676
$2004 676 مسرور بہت سی لڑائیاں صرف اس لئے چل رہی ہوتی ہیں کہ دلوں کے کینے دور نہیں ہوتے۔پس صلح کرنے کی ضرورت ہے، دلوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے ہر ایک کو کینوں سے اپنے آپ کو صاف کرنا چاہئے۔فرمایا کہ یہ تبھی ہو سکتا ہے تبھی ممکن ہے کہ اپنے بھائیوں سے اسی طرح ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتے ہو۔ان کے حقوق ادا کرنے کے لئے بھی اسی طرح سوچو جس طرح اپنے حقوق لینے کے لئے سوچتے ہو۔تو یہ پاک معاشرہ جب قائم ہوگا تو لڑائیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور صلح کی بنیا دیں بھی پڑ جائیں گی۔بلکہ صرف صلح ہی صلح ہوگی۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” آپس میں صلح کاری اختیار کر و صلح میں خیر ہے۔جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں۔اور اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہو تو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں۔یعنی بڑے وقار سے سلام کہہ کر ان سے الگ ہو جاتے ہیں۔اور ادنی ادنی بات پر لڑنا شروع نہیں کر دیتے۔یعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے۔اور صلح کاری کے محل شناس کا یہی اصول ہے کہ ادنی ادنی باتوں کو خیال میں نہ لاویں۔اور معاف فرما دیں۔صلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بے ہودہ عزا سے چشم پوشی فرماویں۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 349 ) تو جیسا کہ میں پہلے بھی خطبوں میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، آپ نے یہاں بھی فرمایا کہ لغویات سے پر ہیز کرو گے تو صلح کی بنیاد پڑے گی۔کیونکہ یہ لغویات جو ہیں، یہ گناہ کی باتیں جو ہیں یہی باتیں ہیں جو صلح سے دور کرتی ہیں اور لڑائیوں کے قریب لاتی ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ : " تیسری قسم ترک شر کی اخلاق میں سے وہ قسم ہے کہ جس کو عربی میں ھدنہ اور ہون کہتے ہیں یعنی دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح