خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 654
$2004 654 مسرور حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر انسان استقلال کے ساتھ قائم رہے جو حالت بطور ایک دورہ کے ہوتی ہے وہ حقیقی نہیں بلکہ ایک مرض کا نشان ہوتی ہے۔جس طرح ایک دماغی مرض والا انسان کبھی ہنسے تو ہنستا ہی چلا جاتا ہے، رونے لگے تو روتا ہی چلا جاتا ہے، کھانے لگتا ہے تو کھاتا ہی۔رہتا ہے، اگر سوتا ہے تو سوتا ہی رہتا ہے اور جاگنے لگے تو ہفتوں اسے نیند نہیں آتی۔ان تمام باتوں میں اُس کے ارادے کا دخل نہیں ہے۔اور کسی فعل پر اسے سزا نہیں دی جاتی۔اسے کوئی نہیں پوچھتا کہ اس قدر روتا یا ہنستا کیوں ہے بلکہ اس کا علاج کرتے ہیں اس کا رونا رنج پر اور ہنسنا خوشی پر دلالت نہیں کرتا۔سونا غفلت کی اور بیداری ہوشیاری کی دلیل نہیں ہوتی۔اسی طرح روحانی حالت میں بھی انسان پر ایسے اوقات آتے ہیں جب وہ کسی بیرونی اثر یا دماغی نقص کی وجہ سے ایک خاص حالت کو انتہا تک پہنچادیتا ہے۔اگر نماز پڑھنی شروع کرتا ہے تو حد ہی کر دیتا ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد اگر اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بالکل چھوڑ چکا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا نمازیں پڑھنا روحانی حالت کی ترقی کی وجہ سے نہ تھا۔کیونکہ اگر خدا کے لئے وہ پڑھتا تو چھوڑ نہ دیتا۔وہ ایک بیماری تھی ، جس طرح زیادہ کھانے اور زیادہ سونے کی بیماری ہوتی ہے۔اس طرح زیادہ نمازیں پڑھنے کی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔(خطبات محمود جلد نمبر 13 صفحه 432) تو نیکی یہ نہیں ہے کہ کچھ وقت کے لئے کی اور بے انتہا کی اور چھوڑ دی۔بلکہ مستقل مزاجی سے کی جائے ،اس میں استقلال ہو۔پس نیکی کرو اپنی طاقت کے مطابق کرو اور پھر اس میں بڑھتے چلے جاؤ۔مستقل مزاجی دکھاؤ۔بعض لوگوں کو جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا دورہ کی طرح نیکیاں کرنے کا جنون ہوتا ہے۔نہ بھی کوئی دماغی عارضہ ہو تب بھی ایک فیز (Phase) آتی ہے اور پھر بالکل ہی جنون میں دوسری طرف نکل جاتے ہیں۔اور اگر نمازیں نہ پڑھنے کا کسی آدمی کی وجہ سے دھکا لگ جائے ، کسی