خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 653 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 653

$2004 653 خطبات مسرور کوشش کریں گے تو فرمایا جب اس طرح کرو گے تو تم یہ نہ سمجھو کہ اگر تم نیکیاں نہیں کرو گے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔نہیں، بلکہ ایک دن تم نے اللہ کے پاس آنا ہے اور تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر کے اپنے پاس لے آئے گا۔اگر تم ست ہو نیکیوں کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہو تو تمہیں ان غفلتوں کا جواب دینا ہو گا کہ تم نے دعوی تو یہ کیا تھا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کی جماعت میں شامل ہو کر نیک اعمال بجالائیں گے۔شرائط بیعت کی پوری پابندی کریں گے۔لیکن عملاً تمہاری حالت ایک غافل انسان کی سی ہے۔نہ تم نے حقوق اللہ ادا کرنے کی طرف توجہ کی ، نہ تم نے حقوق العباد ادا کرنے کی طرف توجہ دی اور اگر تم یہ کر رہے ہو تو پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ تم فلاح پانے والے ہو گے، کامیاب ہو گے۔اللہ کی رضا حاصل کرنے والے ہو گے اور اپنی کمزوریوں کے باوجود یہ نیکیاں کر رہے ہو گے۔تو اللہ تعالیٰ بھی تمہارے اس جذبے کی قدر کرتے ہوئے تمہیں نیکیوں کی توفیق دیتا چلا جائے گا کیونکہ وہ قادر خدا ہے۔پس اب بھی وقت ہے، نیکیاں کرنے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کی طرف توجہ دیں۔اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ آہستہ آہستہ نیکیوں میں آگے بڑھتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کی صلاحیتوں اور استعدادوں کا بھی علم ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر ایک کی اپنی اپنی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔وہ یہ نہیں کہتا کہ تم نے ایک ہی چھلانگ میں تمام نیکیاں حاصل کر لینی ہیں، تمام نیکیوں کے اعلیٰ معیار حاصل کر لینے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ تمہاری کامیابی اس میں ہے کہ تسلسل کے ساتھ نیکیوں میں قدم بڑھاتے رہو۔تمہارے قدم رکیں نہیں۔برائیوں کو پیچھے چھوڑتے جاؤ اور نیکیوں میں بڑھتے جاؤ۔اور پھر ہر ایک اپنے سے زیادہ نیکی کی طرف، نیک عمل کرنے والے کی طرف دیکھے۔یہی حکم ہے اور اس سے نیکیوں میں مسابقت کی روح پیدا ہوتی ہے۔لیکن وہی جیسا کہ میں نے پہلے کہا مسابقت کی روح پیدا کرنے کے لئے مستقل مزاجی شرط ہے۔ایک تسلسل سے کام کرنا ہوگا۔