خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 627

$2004 627 خطبات مسرور طرف سے محبت کے جذبات کی فضا پیدا ہوتی ہے۔گھر میں سلام کہہ کر داخل ہونے کی اجازت کے بارے میں ایک اور روایت میں یوں آتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے قرض کے معاملہ میں حاضر ہوا۔میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا میں ہوں۔آپ نے فرمایا یہ کیا میں میں لگا رکھی ہے۔گویا کہ آپ نے یہ بات پسند نہیں فرمائی کہ بغیر سلام کے اپنا تعارف کروایا جاۓ۔(بخاری کتاب الاستئذان باب اذا قال من ذا)۔یہ بات آپ کو سخت نا پسند تھی کہ کوئی مسلمان ہو اور سلام کو رواج نہ دے اور یونہی گنواروں کی طرح گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرے۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا بھی بڑا واضح حکم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔﴿فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِمُوْا عَلَى اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً﴾ (النور: 62) - یعنی جب تم گھروں میں داخل ہو تو پہلے اپنے آپ کو سلام کر لیا کرو۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یعنی اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو سلام کہو جو ان مکانوں میں رہتے ہیں اور یا درکھو کہ یہ سلام تمہارے منہ کا سلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بہت بڑا تحفہ ہے۔یعنی سلام کا لفظ بظا ہر تو بہت معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن ہے بڑے عظیم الشان نتائج پیدا کرنے والا۔کیونکہ سلام کے لفظ کے پیچھے خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا وعدہ ہے۔پس جب تم کسی بھائی کو سلام کہتے ہو تو تم نہیں کہتے بلکہ خدا تعالی کی دعا اسے پہنچاتے ہو۔فرمایا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ عموماً ہمارے ملک میں لوگ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم نہیں کہتے۔گویا ان کے نزدیک ایک دوسرے کے لئے تو یہ دعا ہے لیکن اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے لئے نہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب بھی وہ اپنے گھروں میں جائیں السلام علیکم کہیں۔