خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 626
$2004 626 مسرور یہ جو دو آیات میں نے تلاوت کی ہیں، آپ نے ان کا ترجمہ بھی سن لیا۔اس میں اسلام کے حسین معاشرے کو قائم کرنے اور آپس کے تعلقات کو ہمیشہ بہترین رکھنے کے لئے چند بڑی خوبصورت نصائح فرمائی گئی ہیں۔پہلی بات تو یہ بیان فرمائی کہ تمہارا دائرہ عمل صرف تمہارا اپنا گھر ہے۔تم اگر آزادی سے داخل ہو سکتے ہو تو اپنے گھروں میں کسی دوسرے کے گھر میں منہ اٹھا کے نہ چلے جایا کرو۔اس سے تم بہت سی قباحتوں سے بچ جاؤ گے۔اگر کسی کے پاس ملاقات کے لئے یا کام کے لئے جانا ہے تو پہلے گھر والوں سے اجازت لو اور اجازت لینے کے بہت سے فوائد ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو لکھا ہے کہ بغیر اجازت کسی کے گھر جانے سے ہو سکتا ہے کہ تمہارے پر کوئی اخلاقی الزام لگ جائے ، کوئی چوری کا الزام لگ جائے۔اس لئے اجازت کو انا کا مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں۔تمہاری اپنی بھی اسی میں بچت ہے اور گھر والوں سے جو تمہارے تعلقات ہیں ان میں بھی اس میں فائدہ ہے کہ اجازت لے لو۔پھر بہت ضروری چیز، بہت اہم بات یہ ہے کہ اجازت لینے کا طریق کیا ہے۔فرمایا کہ اجازت لینی کس طرح ہے۔وہ اس طرح لینی ہے کہ سلام کہہ کر اجازت لو، اونچی آواز میں سلام کہو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف فرما تھے، کسی شخص نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔آپ نے اپنے ملازم کو کہا کہ جاؤ اس کو جا کر اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ۔جو یہ ہے کہ پہلے سلام کرو پھر اندر آنے کی اجازت لو۔کیونکہ یہی ایک طریق ہے جس سے تم اپنے آپ کو بھی پاک کر رہے ہوتے ہو اور گھر والوں کو بھی سلامتی بھیج رہے ہوتے ہو۔سلامتی کا یہ پیغام بھیجنے سے یہ احساس بھی رہتا ہے کہ میں نے سلامتی کا پیغام بھیجا ہے اب ان گھر والوں کے لئے میں نے امن کا پیامبر بن کر ہی رہنا ہے ان سے بہتر تعلقات ہی رکھنے ہیں۔اور پھر گھر والے بھی جو جواب میں سلامتی کا جواب ہی دیتے ہیں تو پھر اس طرح سے دونوں