خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 604

خطبات مسرور $2004 604 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ياَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ أُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۔فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔ذلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَأْوِيلا۔(سورة النساء آیت:60) اس کا ترجمہ ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی، اور اگر تم کسی معاملے میں اولو الامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو۔اگر فی الحقیقت تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر طریقہ ہے اور اپنے انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔کسی بھی قوم یا جماعت کی ترقی کا معیار اور ترقی کی رفتار اس قوم یا جماعت کے معیار اطاعت پر ہوتی ہے۔جب بھی اطاعت میں کمی آئے گی ترقی کی رفتار میں کمی آئے گی۔اور الہی جماعتوں کی نہ صرف ترقی کی رفتار میں کمی آتی ہے بلکہ روحانیت کے معیار کے حصول میں بھی کمی آتی ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار دفعہ اطاعت کا مضمون کھولا ہے۔اور مختلف پیرایوں میں مومنین کو یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ کی اطاعت اس وقت ہوگی جب رسول کی اطاعت ہوگی۔کہیں مومنوں کو یہ بتایا کہ بخشش کا یہ معیار ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور تمام احکامات پر عمل کریں