خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 516
$2004 516 خطبات مسرور خیال رکھتی ہے لیکن ہر احمدی کو جو جلسہ پر آ رہا ہو، ان لوگوں کا خاص طور سے خیال رکھنا چاہئے۔بعض دفعہ بعض مواقع پیش آ جاتے ہیں اس لئے ہمیشہ خیال رکھیں کہ ان لوگوں کا خاص احترام کرنا ہے۔یہ خیال دل میں کبھی نہ آئے کہ یہ تو فلاں غریب ملک کا آدمی ہے اس کی عزت واحترام اتنازیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ سب شیطانی خیال ہیں۔انہیں غریب ملکوں نے احمدیت قبول کرنے میں کھلے دل کا اظہار کیا ہے اور ان معززین میں سے اکثریت نے بھی جماعت سے بہت تعاون کیا ہے جو یہاں آتے ہیں۔اس لئے ان کی عزت و احترام کا ہر احمدی کو بہت خیال رکھنا چاہئے۔ایک اور واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کا ہے کہ ایک ہندو حضرت اقدس کے حضور حاضر ہوا۔کیونکہ ہندوؤں کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے اور کھانے پینے کا بھی اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے۔کیونکہ مسلمانوں کے لئے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لنگر جاری تھا لوگ آتے تھے، کھاتے تھے۔لیکن ہندو مہمان کے لئے خاص انتظام کرنا پڑا اور وہ انتظام چونکہ دوسروں کے ہاں کرانا ہوتا تھا اس لئے ظاہر میں اس کی مشکلات بھی ہوتی تھیں۔تو اس موقعے یہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان نوازی کا پورا اہتمام فرماتے تھے۔جب وہ آیا اور آپ سے ملاقات کی تو آپ نے فرمایا یہ ہمارا مہمان ہے، اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کر دینا چاہئے۔ایک شخص کو خاص طور پر حکم دیا کہ ایک ہندو کے گھر اس کے لئے بندوست کیا جاوے۔(سیرت حضرت مسیح موعود عليه السلام مرتبه شيخ يعقوب علی عرفانی صاحب جلد اول صفحه (142 اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو یہ ہے کہ ایسے غیر جو آتے ہیں ان کے لئے انتظام علیحدہ ہوتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ جتنا بہترین انتظام ہو سکے ، کیا جائے۔ان رش کے دنوں میں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ڈیوٹی والے بھی اور عام لوگ بھی ایسے لوگوں کے آنے جانے کے وقت میں بھی کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جو کسی قسم کی تکلیف کا باعث بنے۔اس لئے ایک تو کوئی نہ کوئی معاون انتظامیہ کو ان لوگوں کے ساتھ ہمیشہ رکھنا چاہئے تا کہ چیکنگ وغیرہ کے وقت میں کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو۔بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی بعض احمدی اپنے ساتھ کسی غیر کو جلسہ