خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 517

$2004 517 خطبات مسرور دکھانے کے لئے لے آتے ہیں تو ان کا بھی انتظامیہ کو خیال رکھنا چاہئے۔ایک تو اس لئے بھی کہ اس شخص کے بارے میں تسلی ہو جائے اس کے لئے بھی ضروری ہے اور دوسرے مہمان نوازی کے تقاضے کے لئے بھی۔تسلی کے لئے اس لئے ضرورت پڑتی ہے کہ بعض دفعہ بہت تھوڑے عرصے کی واقفیت ہوتی ہے اور دعوت الی اللہ کے شوق میں لوگ بعض دفعہ بعض غلط لوگوں کو بھی لے آتے ہیں اس لحاظ سے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔بہر حال غیر محسوس طریقے پر یہ نہ ہو کہ اتنی چیکنگ شروع ہو جائے کہ اگلے کو احساس ہو جائے، اگر کوئی صحیح بھی ہے تو اس کو برا لگنے لگ جائے ، دونوں صورتوں کے لئے ہر وقت ایک خاص انتظام رہنا چاہئے۔ایک روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغرب کی نماز کے بعد مجلس میں بیٹھے تو میر صاحب نے عبد الصمد صاحب آمدہ از کشمیر کو آگے بلا کر حضور کے قدموں میں جگہ دی اور حضرت اقدس سے عرض کیا کہ ان کو یہاں ایک تکلیف ہے کہ یہ چاولوں کے عادی ہیں اور یہاں روٹی ملتی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْن۔ہمارے مہمانوں میں سے جو تکلف کرتا ہے اسے تکلیف ہوتی ہے اس لئے جو ضرورت ہو کہہ دیا کرو۔پھر آپ نے حکم دیا کہ ان کے لئے چاول پکوا دیا کرو۔(ملفوظات جلد 2 صفحه 482 البدر ١٤ نومبر (١٩٠٢ء یہاں بھی عمومی انتظام ہوتا ہے اور بعض قوموں کے لئے مختلف ممالک سے لوگ آ رہے ہوتے ہیں مختلف قومیتوں کے لوگ آ رہے ہوتے ہیں ، ان کے مطابق کھانے کا بھی انتظام ہوتا ہے۔لیکن بعض دفعہ بعض لوگوں کو جو عام خوراک کھانے والے ہیں ان کو بھی کچھ نرم یا پر ہیزی غذا کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔اس خوراک کا انتظام تو ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ مہمانوں کو پتہ نہیں ہوتا اس لئے انتظامیہ کو اجتماعی قیام گاہوں پر یہ انتظام کرنا چاہئے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ اگر کوئی ایسا مریض کی حالت میں ہو تو اس کے لئے یہ انتظام ہو جائے۔بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی موٹی بیماری ہے یا خوراک کو بدلنا چاہتے ہیں تو وہ مہمان آجاتے ہیں کہ ہم نے تو پر ہیزی کھانا ہی کھانا ہے اور