خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 506
$2004 506 خطبات مسرور اس وقت پیدا ہو گا جب تم دلوں میں محبت پیدا کرو گے۔اور جب یہ محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہو جائے گی تو پھر تم اپنے آرام پر، اپنی ضروریات پر ، اپنی خواہشات پر، ان دور سے آنے والوں کی ضروریات کو مقدم کرو گے اور ان کو فوقیت دو گے۔اور اگر اس جذبے کے تحت خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم فلاح پاگئے تم کامیاب ہو گئے۔اور خاص طور پر ان مہمانوں کے لئے اپنے ان اعلیٰ جذبات کا اظہار کرو گے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں تو پھر تم یقیناً اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مستحق ٹھہرو گے۔مہمان نوازی تو نبیوں اور نبیوں کے ماننے والوں کا ایک خاص شیوہ ہے۔دیکھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی مہمان نوازی کو دیکھتے ہوئے فوراً اس ا وقت آنے والوں سے یہ نہیں پوچھا کہ تم کھانا کھاؤ گے کہ نہیں، ایک بچھڑا ذبح کر دیا اور حضرت خدیجہ نے بھی پہلی وحی کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوئی تو اور بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی حضرت خدیجہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کیا کہ فکر نہ کریں خدا تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ میں مہمان نوازی کا وصف بھی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔پس ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرتے ہیں آپ کے اس اعلیٰ خلق کو اختیار کریں اور آپ کے عاشق صادق کے مہمانوں کی خدمت میں جلسے کے ان دنوں میں خاص طور پر کمر بستہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے وارث بنیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایمان کی یہ نشانی بتائی ہے کہ سچا مومن وہی ہے جو اپنے مہمان کی مہمان نوازی کا حق ادا کرتا ہے۔ایک روایت میں ہے، حضرت ابو ہریرہ سے یہ روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب الحث على اكرام الجار تو اعلیٰ اخلاق بھی ایمان کی نشانی ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق کی قسم کھائی ہے۔ہم جو آپ کی امت میں شمار ہوتے ہیں ہم نے بھی انہیں قدموں کی پیروی